تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 58
۵۸ - کسی اور جگہ چلے جاویں ورنہ جانی نقصان ہونے کا بھی خطرہ ہے۔میں نے 4 مارچ کو ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں اس بارے میں سوچوں گا اور ، مارچ کو میں نے پھر ان کی ہمدردی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔موت نے ایک دن آنا ہی ہے۔اگر ان لوگوں کے ہاتھوں میں میری اور میرے خاندان کی موت ہے اور اللہ تعالے کو بھی یہی منظور ہے تو میں راضی بہ رضاء الہی ہوں۔آپ اپنے آپ کو خطرہ میں ہماری وجہ سے نہ ڈالیں۔وہ لوگ مجھے بہت سمجھاتے رہے۔مگر آخر مایوس ہو کر پہلے گئے۔ہم لوگ دعاؤں میں لگے رہے۔۸ / مارچ کو قریباً دس بجے میرے گھر میں ایک نابینا اور اس کے ساتھ ایک بچہ بطور مہمان آ گئے۔اُن کے آنے کے چند منٹ بعد میرا لڑکا سکول سے آگیا۔اس نے بتایا کہ ماسٹر صاحب نے اُسے فسادات کی وجہ سے چھٹی دے دی ہے اور راستے میں اس نے ایک احمدی کے گھر میں لوٹ کھسوٹ ہوتے دیکھی ہے۔اور مجمع کہ رہا ہے کہ وہ اب ہمارے گھر پر بھی رہا وابو لنے والے ہیں۔میں نے اُسی وقت مکان کے باہر کی طرف کھلنے والے تمام دروازے مقفل کر دیئے اور ریڈیو، کلاک جیسی چیزیں ہاتھوں ہاتھ ایک کو بھڑی میں بند کر کے قفل لگا دیا ہمارے گھر میں ہروقت پانی غسل خانہ کے سکا دے۔حمام اور بالٹیوں وغیرہ میں بھرا رہتا تھا تا کہ اگر فسادی آگ لگائیں تو پانی کی مدد سے آگ بجھائی جاسکے۔چارہ کرنے کا گنڈاسہ گھر میں تھا اور ایک چھری اور ایک ہاکی تھی۔یہ تینوں ہم نے تیار رکھے ہوئے تھے کہ اگر فسادی در دو اون کھڑکیاں توڑ کر گھر لوٹ مار کے لیے داخل ہوں گے تو اُن سے مقابلہ کیا جا دے گا ایک مسہری کے بانس کے ایک سرے پر کپڑے پیٹ کر اوپر سے تار لیٹی ہوئی تھی۔ایک ماچی اور تیل کی بوتل یہ تینوں چیزیں صحن میں تیار رکھی تھیں۔تاکہ اگر فسادی چھت پر چڑھ کر صحن میں اترنے کی کوشش کریں تو نیچے سے ہی اُن کا آگ کے ساتھ مقابلہ کیا جا دے۔ابھی یہ سب چیزیں بمشکل مناسب جگہوں پر رکھی بھی نہ تھیں کہ کم و بیش تین چار سو آدمی شور کرتے ہوئے میرے مکان پر پہنچ گئے اور قریباً دو گھنٹہ تک دروازے۔کھڑکیاں توڑ کر مکان میں داخل ہونے کی کوشش کرتے اور نازیبا نعرے لگاتے رہے۔پڑوسیوں