تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 57 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 57

دیکھا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام زمین اور آسمان کے درمیان تشریف فرما ہیں۔اور حضور پر نور کے بدن مبارک سے نور کی شعائیں نکل کر سارے آسمان اور زمین کو روشن کر رہی ہیں اور بے شمار مخلوق کہہ رہی ہے کہ یہ مسیح موعود آگئے۔اسی روز صبح کو عزیزہ زہرہ کا بڑا لڑکا جو آٹھ سال کی عمر کا ہے۔کہنے لگا امی سانپ آئے۔بین بجی اور بھاگ گئے اور سپاہی آگئے۔اسی روز صبح میری طبیعت کی گھبراہٹ جو بھی وہ بالکل جاتی رہی۔میں نے سب کو گھر میں کہا کہ فکریہ کرد۔کوئی نہ کوئی سامان حفاظت کا ضرور ہو جائے گا۔بفضل خدا اسی دن شام کو چار بجے فوج آگئی۔اور آتے ہی انہوں نے حفاظت کے سامان کر دیئے۔" ۱ - کرم جناب اقبال محمد خان صاحب (سابق اسسٹنٹ میٹرو لوجسٹ محکمہ موسمیات پاکستان فرماتے ہیں :۔ور میں کراچی سے تبدیل ہو کر یم، مارچ کی صبح کو آٹھ بجے لاہور آیا اور تقریباً پونے سات بجے شام اپنے مکان گجرانوالہ پہنچا۔تو گھر میں سنا کہ احراری ہر روزہ شرارنہیں شہر ہی کر رہے ہیں۔چنانچہ وہ ہمارے مکان پر بھی گاہ بہ گاہ آتے اور شور و غوغا کر کے چلے جاتے۔میرے گھر پر علاوہ میرے ذیل کے افراد تھے۔میری لڑکی۔میرے ایک لڑکے کی بیوی۔میرا ایک لڑکا قریباً ۱۳ ۴۳ بر من کا جو اسلامیہ ہائی سکول گوجرانوالہ میں ساتویں جماعت میں تعلیم پاتا تھا ایک پوتا اور درد پوتیاں یہ تینوں بچے چھ برس سے کم عمر کے تھے۔میری گوجرانوالہ میں آمد کے بعد فسادی بیچے جوان اور بوڑھے دن رات میں ایک سے تین مرتبہ روزانہ آتے اور گالی گلوچ کھتے۔نازیبا فقر سے دہراتے۔چونکہ ہم اپنے مکان کو ہر وقت بند رکھتے تھے اور ضرورت کے وقت ہم باہر بھی جاتے تھے مگر مکان کو اندر سے کنڈی یا قفل سے بند رکھتے تھے۔ہمارے محلہ میں شیخ غلام ربانی صاحب سیکرٹری ڈسٹرکٹ بورڈ گوجرانوالہ میرے مکان کے قریب ہی رہتے تھے اور ایک شخص مسمی جلال گوجر جو میرے مکان کے سامنے رہتا تھا یہ دونوں چھے اور سات مارچ ۱۹۵۳ کو برقت شب آئے اور بتایا کہ حالات سخت مخدوش ہیں اور فسادیوں کو آج تک دبایا جاتا رہا ہے مگر اب وہ ان کے اختیار سے باہر نکلتے جا رہے ہیں۔ڈر ہے که منادی اُن کے خلاف بھی نہ ہو جائیں۔اس لیے انہوں نے مشورہ دیا کہ گھر چھوڑ کر