تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 54 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 54

لوگوں کا پتہ کرنے آئی تھی۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ حکیم نظام جان نے بھی احمدیت سے توبہ کرلی ہے سوئم بھی کرلو۔۔۔۔ہم نے احمدیت کی پہچان کا اور ثابت قدم رہنے کا یقین دلایا اور کہا کہ یہ لوگ تم کر دھوکا دے رہے ہیں۔اُن کے دھو کہ میں نہ آتا۔جس وقت پولیس چوکی میں دن بھر کی کارروائی کی رپورٹ دینے کو بڑے لڑکے فضل الرحمن کو بھیجا گیا تو اس وقت انچارج چوکی فون پر کسی سے بات کر رہا تھا اور اطمینان کا اظہار کر رہا تھا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔دو تین احمد ی اور یہ مسلمان ہو گئے ہیں۔یہ باتیں بتاتی ہیں کہ مرکز می حکومت نہ بھی چاہتی تھی تو بھی پنجاب کے بعض حکام فسادیوں کے ساتھ تھے۔کالج کے نو نہالوں نے اتوار کو بھی چھٹی لی اور اپنا فرض پورا کر نے ہمارے مکان تھے ترے۔گالیاں دینے اور پتھر چلانے لگے۔نکلو باہر کہاں ہو تم۔مرزائی کتنے ہائے ائے۔مگر اس طرف ایک ہی چپ تھی تھی۔گو ہم نے کچھ نہ کچھ جواب کا انتظام کیا ہوا تھا مگر شہر میں ایسے بھی غریب احمدی تھے جو ذراسی حرکت سے ان ظالموں کا نشان رستم ہن کہ ختم ہو سکتے تھے۔پہلے پہل فسادیوں کو خیال تھا کہ ہم لوگ مسلح ہیں مگر جب اتنے دن تک ہم نے کوئی جوابی قدم نہ اٹھایا تو انہیں حیرت ہونے لگی کہ ہم کیسے انسان ہیں کہ اس عظیم ہنگامے سے بھی متاثرہ نہیں ہوتے۔آخر چند نوجوان جرات کر کے دروازہ کھلوانے پر اتر ہی آئے۔کہنے لگے ہم تمہیں مسلمان بنا نے آئے ہیں۔دروازہ کھولو۔۔۔۔۔۔ہمارے ایک ہی جواب پر کہ ہم تم سے زیادہ مسلمان ہیں وہ دروازہ زور زدر سے کھٹکھٹاتے اور توڑنے کی کوشش کرتے رہے۔جب ہم کسی صورت دروازہ کھولتے نظر نہ آئے تو انہوں نے ہماری بھینس جو گل میں بندھی تھی کھولنے کا پروگرام بنایا۔جب وہ بھینس کی طرف بڑھے تو میں نے بندوق نکال کر ان کا نشانہ سیدھا گیا۔ہماری دکان کے سامنے بیٹھنے والا در زی جو اب تک محض نظارہ کر رہا تھا دوڑ کر اُن کے پاس آیا اور حقیقت سے آگاہ کر کے بھاگ جانے کا مشورہ دیا۔ہمارا تو ارادہ ہی نہیں تھا کہ گولی چلائی جائے کیونکہ یہ پھر نئے فساد کا پیش خیمہ اور مز یہ تباہی کا باعث بن سکتی معنی مگر اس سے یہ ہوا کہ ہماری خاموشی کا جو وہم غیر مسلح ہونے