تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 52 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 52

۵۲ تھے۔مسجد سے خطبہ سُن کر آنے والے جلوس نے دکان کے سامنے کچھ اس طرح پرے جمائے کہ ملک صاحب نے دکان بند کر لینے کا مشورہ دیا۔وہ لوگ اب زیادہ بھرتے اور گند پر اتر تے آرہے تھے۔ہم نے دکان بند کر لی اور مکان میں محبوس ہو گئے۔پولیس نے ٹرانسپورٹ کمپنی سے دو دو بسیں مانگی ہوئی تھیں جن پر گر فتار شدگان کو باہر لے جا کر چھوڑا جاتا تھا۔مظاہرین نے دھمکا کر اور جلانے کی دھمکی دے کر وہ بسیں خود جب حاصل کر لیں۔اور ان پر بیٹھ کر شہر میں نعرے لگاتے۔شور مچاتے۔گالیاں بکتے۔جب اور جہاں جی چاہتا دندناتے پھرتے۔اندر بیٹھے بیٹھے طبیعت تنگ آنے لگی۔لوگوں کے بیچے باہر ہنستے کھیلتے اور شور مچاتے پھرتے اور مہارے بچے گھروں میں مقید۔باہر نکلنے کا یارا نہیں۔وہ حیران ہو ہو کر سوچتے یہ دو دن میں کیا ہو گیا کہ ہمارا نکلنا ہی بند ہو گیا۔ہم انہیں دلا سا دیتے کہ آجکل دنیا ہم پر تنگ ہو رہی ہے۔یہ کھیلنے اور ہنسنے کے نہیں۔بلکہ رونے اور دعائیں کرنے کے دن ہیں۔دعا کرو کہ ہم امتحان میں کامیاب اور ایمان میں ثابت قدم رہیں۔خدا اس آزمائش کو جلد ٹال دے۔دشمنوں کو ہدایت بخشے اور وہ صحیح انسان بن کر ہم سے پیش آدیں۔جب یہ مصیبت مل جائے گی پھر تم پہلے کی طرح ہنسی کھیل سکو گے۔باہر آجا سکو گے۔ہفتہ کو بھی چھوٹی لڑکی ریحانہ اسکول چلی گئی تھی۔سکول میں لڑکیوں نے مل کر اُسے خوب ما را خوب مارا۔خوب مارا۔وہ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ مرزائی ہے۔وہ بیچاری روتی اور مار کھاتی رہی۔کسی کے دل میں رسم نہیں آیا کسی نے اُسے نہیں چھڑا یا کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔کیونکہ وہ مرزائی تھی اور مرزائیوں کو ہلاک بھی کر دیا جائے تو کو مضائقہ نہیں۔حکام بے بس تھے۔انتظامیہ بے بس تھی۔لوگوں میں حکومت اور احمدیت کے خلاف نفرت اور غصہ بڑھ رہا تھا۔اشتعال پھیلایا جارہا تھا۔مگر کوئی جلسے جلوسوں پر پابندی یا دفعہ نمبر ۱۳ کا نفاذ نہ تھا۔غنڈے اور بیچے آتے اور علی الا علمان دروازے توڑتے۔پتھر برساتے اور گالیاں دیتے مگر کوئی پولیس نہ آتی۔