تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 606
بسم اللہ الر حمن الرحیم نده وقتی علی رسولہ الکریم دفتر پرائیویٹ سیکر ٹی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تبصرہ بخدمت مریم محترم حضرت مرزا بشیر احمد صاحب السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته حضور ایدہ اللہ نصرہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ حضور کارا وہ کل دوپہر کو لاہور کے لیے روانہ ہونے کا ہے۔آپ اور ملک غلام فرید صاحب اور مرزا مبارک احمد صاحب بھی لاہور جائیں گے۔نیز فرمایا کہ غالباً مکرم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو مقامی امیر اس عرصہ میں تجویز کرنا ہو گا۔خاکسار عبدالرحمن انور - پرائیویٹ سیکر ٹی ۱۱/۱/۵۲ حضرت خلیفة المسیح الثانی - بسم الله الرحمن الرحیم سيدنا ! نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم السلام عليكم ورحمة الله و بركاته -۱ خاص خاص دوستوں کو دعا کی تحریک کر دی ہے۔۲۔مگر کئی دوست پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اپنے طور پر شہادت کے موقع پر لاہور جائیں تو اس میں کوئی ردک تو نہیں سو اس بارے میں ہدایت فرمائی جائے۔۳۔میری ذاتی رائے یہ کہ کمرہ عدالت کے اندر جانے کا تو سوال ہی نہیں بلکہ باہر کے احاطہ میں بھی غالباً پولیس لوگوں کے ہجوم کو روکے گی اور ویسے بھی اس موقعہ پر جماعت کی طرف سے کسی قسم کا Demonstration وغیرہ نہیں ہونا چاہیئے اور تعداد کی غیر معمولی کثرت بھی ایک رنگ کا مظاہرہ ہی ہوتا ہے۔غالباً عدالت بھی اسے پسند نہیں کرے گی اور اس سے بالمقابل مظاہرہ کی بھی بنیاد قائم ہوتی ہے۔۔البتہ حضور کے ارشاد سے جامعہ مبشرین کے طلبہ اور اساتذہ جارہے ہیں اور باقی انتظام حسب ضرورت لاہور کے دوستوں کے ذریعہ ہو جا ئے گاجس کے لیے عزیز میاں مبارک احمد