تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 599
۵۹۷ ہیں جیسا کہ شیخ صاحب نے نوٹ کیا ہے۔خصوصاً وقار کے لحاظ سے۔جونیئر وکیل p aid ہونا چاہیے ایونی Commentry سے کام کرنے والا نہ ہو اور اتنے بھی جمع نہ ہوں کہ کام نہ ہو سکے۔۔خادم صاحب بطور گواہ اچھے رہیں گے۔میاں عطاء اللہ صاحب شاید موزوں نہ ہوا چوہدری انور حسین صاحب کا غالباً زیادہ اثر نہ ہو گا۔شیخ محمد احمد صاحب نخواہ کام نہ کر دیں ان کا منشوہ بہت اچھا ہے۔۔کورٹ کو خواہ وسیع اختیار دیا گیا ہے اور قانون شہادت کی پابندی لازمی نہیں لیکن بہاری طرف سے اس معاملہ میں احتیاط ہونا لازم ہے۔تا ایسا نہ ہو کہ ہمارا کیس weak ہو جائے یعنی کسنی سنائی بات پر واقعہ کا انحصار نہ رکھا جائے۔گواہ ایسا ہونا چاہیئے جو اپنے آپ کبھی بات یا بیتی بیان کر سکے ہاں جہاں صرف یہ بتلانا مقصود ہو کہ یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا ہے تو عمومی سرنگ میں یہ کہا جا سکتا ہے مگر بہتر اور محتاط طریق یہی ہے کہ معین اور مخصوص شہادت ہو۔احرار کا ذکر کرتے ہوئے عناد یا طعنہ زنی یا جارحانہ طریق نہ اختیار کیا جاوے وقار کے ساتھ بے شک جذبات اور افسوس میں ڈوبی ہوئی بات ہو لیکن بنایا یہ جاوے کہ احرار نے یہ کہا یا گیا۔- دوسرا فریق بے شک یہ کوشش کرے گا کہ ہر ختم کی باتیں زیر تنقیح آئیں لیکن ہماری طرف سے واقعاتی رنگ غالب ہونا چاہیئے۔4 - حکومت کے افسران کے متعلق یہ یا در بنا چاہیئے کہ حتی الور سے کسی کا نام نہ آئے سوائے اس کے کہ جرح میں پوچھا جاوے تو بتانا پڑے اس میں دشمنی اور عناد کی بات نہ کی جاوے اگر کچھ کہنا ہی ہو تو مختلف افسروں کا رویہ بیان کر کے اس طرف توجہ دلائی جاوے کہ فلاں افسر کارویہ مختلف متھا۔خواہ مخواہ تعریف بھی نہ ہو۔افسروں کو جو خط لکھے گئے وہ بے شک پیش کی جائیں۔ہماری طرف سے مقدمہ ایسے رنگ میں پیش کیا جاوے کہ عدالت مجبور ہو کہ فریق مخالفت کے متعلق سخت Remarks کہ سے اگر خود بھڑاس نکا مالی جا دئے تو عدالت اپنے