تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 49 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 49

نے ہجوم کو بٹھا دیا تب میں نے عرض کیا۔مولوی صاحبان ! آپ کے مبلغ مجھے کشاں کشاں جو میاں لائے ہیں اب آپ اپنی کارہ والی شروع کریں۔عشق از پرده عصمت بیرون آرد زلیخا را پچاس ساتھ مولوی کھڑے تھے اور خلقت بھی منتظر تھی کہ کب سنگباری کا حکم کون دیتا ہے؟۔جوم ڈنڈوں سے مسلح۔آنکھیں لال لال نکالے حکم کا منتظر تھا۔گئے مولوی صاحب آواز سے دینے کہ بلاؤ مولوی صابر کو۔بلاؤ مولوی فلاں کو کہ وہ اپنا کام کریں۔ہر طرف سے آوانہ آئی کہ مطلوبہ مولوی یہاں نہیں ہیں۔آخر ایک مولوی صاحب کو ہجوم نے آسے کہا کہ مولوی صاحب آپ آگے آئیں۔مولوی صاحب سر سے ننگے۔آنکھ میں پھولا۔داڑھی لمبی مکر کرر برڑی۔سر پر عمامہ ندارد - قرآن کریم لے کر میرے پاس بیٹھ گئے اور لگے قرآن کریم کی درق گردانی کرنے۔جب مطلب کی جگہ کی تلاش میں ذرا دیر ہوئی تو میں نے قرآن کریم مولوی صاحب سے لے لیا اور اُٹھ کھڑا ہوا اور ہجوم کو مخاطب کر کے عرض کی کہ پہلے میری عرض من ہیں۔اگر کوئی کسر رہ گئی۔کوئی کمی رہ گئی تو آپ بعد ازاں پوری کر لیں۔میں نے قرآن کریم کو دائیں ہاتھ سے بلند کیا۔اعوذ اور بسم اللہ پڑھ کر اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبدہ ورسولہ پڑھا۔اور کہا کہ قسم ہے مجھے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔جس جگہ قرآن کریم اترا ہے اس کو کہتے ہیں ام القرنی اور میں پر نازل ہوا اس کو کہتے ہیں ابو الا نبیاء اور اس کتاب (قرآن کریم کو کہتے ہیں ام الکتاب۔میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قائم النبيين مانتا ہوں اور لا لا إِلَّا الله مع د رسول اللہ پر میرا ایمان ہے۔اگر کسی مولوی صاحب کو میرے اسلام میں شک ہو تو وہ اپنے آپ کو جن شرائط کے ماتحت مسلمان سمجھتے ہیں تحریر کریں۔میں اس پر دستخط کر دوں گا۔ہجوم پر ایک سناٹا چھا جاتا ہے۔مولوی صاحبان ایک، دوسرے کا منہ دیکھتے ہیں۔میں نے پگڑی سر سے اُتار دی اور کہا کہ پہلے احرار نے میرے مرکان کو لوٹا۔بعد ازاں ایک ہجوم نے میرے مکان کو توڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔اس کو بھی یہی عرض کیا آپ کے یہ مبلغ جاتے ہیں اور مجھے نے آتے ہیں۔اگر میرے