تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 48 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 48

سے مرعوب ہو کر گکھڑا اپنے ہم زلف کے ہاں چلے گئے مگر وہاں بھی ہم سے وہی سلوک ہوا جس سے ڈر کر یہاں سے گئے تھے۔آخر ، ر مارچ کو ایک بجے کے قریب میرا بھتیجا گیا اور کہا کہ تمہارا گھر لوٹا گیا ہے۔ہم میاں بیوی تا نگر پر سوار ہوکر ۴ ۲ بجے کے قریب گوجرانوالہ اپنے گھر پہنچے۔مکان اور ٹرنکوں کے تالے سب ٹوٹے ہوئے دیکھے۔ابھی ہم جائزہ ہی لے رہے تھے کہ کیا نقصان ہوا کہ ایک ہجوم ہاتھوں میں لکڑیاں اور سوئیاں اور پتھر روڑوں سے مسلح دروازہ اور کھڑکیوں پر اپنا غصہ نکالنے لگا۔ہم نے اندر سے دروازہ اور کھڑکیاں بند کی ہوئی تھیں۔اس ہجوم سے ایک کمبخت دوسرے مکان کو پھیلا نک کرا در دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگیا۔اور نیچے آکر ہمارا باہر کا دروازہ کھول دیا۔ہجوم بدستور اینٹوں۔پتھروں اور لکڑیوں اور سوٹوں سے مکان کو توڑنے میں مشغول تھا۔کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ناچار میں دروازے میں گیا اور کہا کہ آپ لوگوں کا اس طرح اُودھم مچانا اور حملہ کرنے کا کیا منشا ہے یہ ہجوم بولا کہ ہم تم کو مسلمان بنا نے آئے ہیں۔میں بیٹھک سے قرآن کریم لے کر کھڑا ہو گیا۔جو کچھ میں نے ہجوم سے کہا وہ آگے چل کر بیان کروں گا۔اس پر ہجوم چلا جاتا ہے قریباً چار بجے میری بیوی پھر جائزہ لینے لگی۔اور میں نماز عصر پڑھنے میں مشغول ہو گیا۔1 نماز پڑھ کر فارغ ہی ہوا تھا کہ باہر پھر شور و شغب اور نعروں کی گونج اور تڑاک پڑاک کی آواز آئی جو پتھروں۔لکڑیوں اور اینٹوں سے مکان کو توڑنے سے پیدا ہو رہی تھی میں نے یا کہ دروازہ کھول دیا اور ہجوم سے کہا کہ آؤ اندر آؤ اور جو کچھ رہ گیا ہے تم لوٹ لو۔ہجوم سے گلی اٹی ہوئی تھی۔مجھے کہنے لگے ہم نے تم کو مسلمان بنا نا ہے۔میں ابھی کچھ کہتے ہی لگا تھا کہ چار نوجوانوں نے میری دونوں بغلوں میں ہاتھ ڈال کر دروازہ سے گلی میں اُتار لیا اور کہا کہ مسجد میں لے جائیں گے۔میرے مکان سے قریبا تین فرلانگ پر زینت المساجد ہے۔اس میں لے گئے۔راستہ میں مجھ سے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے۔میں نے کہا محمد یوسف میں گلیوں اور بازاروں میں جلوس کا ہیرو بن گیا۔محمد یوسف زندہ باد۔پیٹو وٹا ہائے ہائے۔جلوس بڑھتا گیا حتی کہ مسجد میں جاتے وقت قریباً ۲ ہزار کا مجمع بن گیا۔مکانوں پر عورتیں اور مرد دیکھ رہے تھے مسجد میں خوب رونق ہو گئی اور میں مسجد کے صحن میں بیٹھ گیا۔جب منتظمین