تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 569
پارٹی کے کسی ایک مہبر کو بھی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ کھلم کھلا یہ اعلان کرے کہ بیشمول ایک مسلمان کے ہر شخص کا یہ پیدائشی حق ہے کہ وہ کسی بھی اعتقاد سے اختلاف کرے خواہ وہ مسلمانوں کی نگاہ ہیں کس قدر ہی مقدس کیوں نہ ہو۔تحقیقاتی عدالت کے سامنے مسٹر انور علی انسپکٹر جنرل پولیس مغربی پاکستان نے یہ بیان دیا کہ سیاستدان آگ کا کھیل کھیل رہے تھے جبکہ وہ متعصب عوام کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر رہے تھے۔تمام سیاسی پارٹیوں نے اور ان میں مسلم لیگ بھی شامل ہے اس امر کی کوشش کی اس صورت حال سے سیاسی رنگ میں فائدہ اٹھائیں کسی سیاستدان میں یہ جرأت نہ تھی کہ وہ کہتا کہ عوامی مطالبات غیر معقول ہیں۔اس کے بر عکس سب نے اپنے آپ کو اس ہیجان خیز تحریک کی چوٹی پر بطور رہنما کے رکھنا پسند کیا۔اس ملک کے سیاستدان کسی بھی حمدیہ کے استعمال کو رنا جائز و نا پسندیدہ نہیں سمجھتے نہ بناء برین یہ امر قابل استعجاب نہیں کہ اس تحریک نے بڑی ہلاکت آفرین اور شدید شکل اختیار کر لی۔مارچ اپریل کے ان تاریک اور ہولناک ایام میں مغربی پاکستان بالخصوص پنجاب میں اسلام کے نام پر بے حساب کشت و خون آگ سے اتلاف جان ہو اتنا ہی اور یہ باری روا رکھی گئی۔سینکڑوں احمدیوں کو لوٹا گیا۔ان کے درجنوں دیہات کو نذر آتش کیا گیا، مردوں اور عورتوں کو نہ ندہ جلایا گیا اور ہزاروں کو بے خانماں کہ دیا گیا۔مسلمانوں کی اس چھوٹی سی جماعت کے لیے خوف وہراس کی فضا پیدا کر دی گئی - رسٹر) غلام محمد گورنر جنرل پاکستان کو بہ تقسیم کرنا پڑا کہ جو کچھ لاہور میں اور پنجاب کے دوسرے مقامات پر ہوا وہ ہمارے سروں کو ندامت سے جھکا دینے کے لیے کافی ہے" بالآ خرجوب سول انتظامیہ ان فسادات کو دبانے میں ناکام ہوگئی تو ناظم الدین حکومت اس امر پر مجبور ہوگئی کہ اس علاقہ کا نظم و نسق فوج کے حوالے کر دے اور اس میں مارشل لاء لگا دیا جائے تاکہ حالات محمول پر آسکیں۔جس طرح جن سنگھ، مہا سبھا کے پیروکار اور دوسری ہند و فرقہ وارانہ پارٹیاں یہ سمجھتی ہیں کہ ملک کے لیے لادینی طرز حکومت اختیار کر لینے سے ہندوستان کے مسلمانوں پر ایک بہت بڑا احسان کیا گیا اسی طرح پاکستان می بھی وسیع طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اگر پاکستان کے مسلمان اپنے نقطہ نظر میں غیر فرقہ دارا نہ ہو جائیں تو وہ اپنے ہندو مہموطنوں پر بڑا احسان کریں گے یہ نقطہ