تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 570
AYA نظر قطعی طور پر غلط ہے۔لادینی نظام بنیادی طور پر سب لوگوں کے لیے یکساں مفید ہے اور اکثریتی فرقہ کو اس سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔موجودہ دور میں جمہور بیت ، لادینیت کے بغیر پنپ نہیں سکتی ملک میں لادینیت کی غیر موجودگی سے بے شک ابتداء میں مذہبی اقلیتوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے لیکن بہت جلد اکثریتی طبقہ کے مختلف فرقے بھی یکے بعد دیگرے تعصب اور نا ہی جنون کا شکار ہو جاتے ہیں۔بہت سے پاکستانیوں نے بھی تازہ تلخ تجربہ کے بعد یہ سبق اب سیکھ لیا ہے۔اگر حکومت پاکستان احمدیوں کے خلاف چلائی گئی تحریک کے سامنے ٹھک جانے کی خطر ناک غلطی کر بیٹھتی تو مذہبی مجنونوں نے مطالبہ کرنا تھا کہ دوسرے فرقوں کو بھی اسلام کے دائرہ سے خارج کیا جائے۔بیان تک کہ صرت ایسے جنونی ہی مسلمان سمجھے جاتے اور باقی سب خارج ہو جاتے۔یہ تباہی اور بربادی کا یقینی راستہ ہوتا۔یہ خطرہ ابھی تک پوری طرح ٹلا نہیں ہے۔جب تک کہ مذہبی ریاست قائم کرنے کا تصویر مکمل طور پر ترک نہ کر دیا جائے گا۔اس وقت تک تعصب کو اپنا پر فتن سر اٹھانے کا امکان باقی رہے گا۔یہ سب آئین پاکستان کے بنیادی حقوق کے بارے میں اظہار خیال کیا گیا ہے لیکن کیا اس ملک نے دوسرے شعبوں میں بھی کوئی ترقی کی ہے۔؟