تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 537 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 537

۵۳۵ ۵۷ ۱۹۵۷ء کا بجٹ لاکھ روپیہ کا ہو ۵۳ الر کے وسیع ترین فسادات کے بعد جن لوگوں کو یہ رہم لاحق ہو گیا ہے کہ قادیانیت ختم ہو گئی یا اس کی ترقی رک گئی۔انہیں یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ بلدیاتی اداروں میں بلکہ ربعض اطلاعات کی بناء پر مغربی پاکستان اسمبلی میں قادیانی ممبر منتخب ہو گئے ہے ہفت روزہ المنبر ۲ مارچ ۱۹۵۶ ء (ب) قادیانیوں نے گزشتہ بیچاس سال میں اندرون اور بیرون ملک اپنی قومی زندگی کو قائم رکھنے اور قادیانی تحریک کو عام کرنے کے سلسلہ میں جو جد وجہد کی ہے اس کا یہ پہلو نمایاں ہے کہ انہوں نے اس کے لیے ایثار و قربانی سے کام لیا ہے۔ملک میں ہزاروں اشخاص ایسے ہیں جنہوں نے اس نئے مذہب کی خاطر اپنی برادریوں سے علیحدگی اختیار کی۔دنیوی نقصانات برداشت کیے اور جان و مال کی قربانیاں پیش کیں ؟ ہ ہم کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ قادیانی عوام میں ایک معقول تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اخلاص کے ساتھ اس سراب کو حقیقت سمجھ کہ اس کے لیے جان و مال اور دنیوی وسائل و علائق کی قربانی پیش کرتی ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے بعض افراد نے کابل میں سزائے موت کو لبیک کہا۔بیرون ملک دور دراز علاقوں میں غربت و افلاس کی زندگی اختیار کی تقسیم ملک کے وقت مشرقی پنجاب کی یہ واحد جماعت تھی جس کے سرکاری خزانہ میں اپنے معتقدین کے لاکھوں۔ویسے جمع تھے اور جب یہاں مہاجرین کی اکثریت بے سہارا ہو کہ آئی تو قادیانیوں کا یہ سرمایہ جوں کا توں محفوظ پہنچ چکا تھا اور اس سے ہزاروں قادیانی بغیر کسی کاوش کے از سر نو بحال ہو گئے۔پھر یہ موضوع بھی مستحق توجہ ہے کہ یہ وہ واحد جماعت ہے جس کے ۲۱۳ - افراد تقسیم کے بعد سے آج تک قادیان میں موجود ہیں اور وہاں اپنے مشن کے لیے کوشاں بھی ہیں اور منہ بط المنبر ۲۳ فروری ۱۹۵۶ صفحه ۱۰