تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 536 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 536

کون و سه ۵۳۴ - مولانا عبدالرحیم صاحب اشرف مدیر النبر نے اپنے اخبار میں متعدد بار جماعت احمدیہ روز افزوں ترقی اور استحکام کا بر ملا اظہار فرمایا چنانچہ لکھا:۔المنبر ۲۳ فروری ۱۹۵۴ء ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا۔لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع ہوتی گئی۔مرزا صاحب کے بالمقابل جین لوگوں نے کام کیا ان میں سے اکثر تقومی ، تعلق باللہ دیانت، خلوص، علم اور اللہ کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شخصیتیں رکھتے تھے۔سید نذیر حسین صاحب دہلوی ، مولانا انور شاہ صاحب دیوبندی، مولانا قاضی سید سلیمان منصور پوری ، مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی ، مولانا عبد الجبار غزنوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری اور دوسرے اکابر رحمھم اللہ وغفر لہم کے بارے ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر ورسوخ بھی اتنا زیادہ تھا کہ مسلمانوں میں بہت کم ایسے اشخاص ہوئے ہیں جو ان کے ہم پایہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔اگر چہ یہ الفاظ سنے اور پڑھنے والوں کے لیے تکلیف دہ ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہم اس کے باوجود اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان کا بہ (نور اللہ مرقدهم و بر مضاجعهم) کی تمام کاوشوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضافہ ہوا ہے۔متحدہ ہندوستان میں قادیانی بڑھتے رہے۔تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پاؤں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں ان کے کام کا یہ حال ہے کہ ایک طرف تو روس اور امریکہ سے سرکاری سطح پر آنے والے سائنسدان ربوہ آتے ہیں رگزشتہ ہفتہ روس اور امریکہ کے دو سائنسدان ربوہ وارد ہوئے ) اور دوسری جانب سہ کے عظیم تر ہنگامہ کے باد جو قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اس "صداقت گوجره، ۲ جون ۱۹۵۸ء سجواله رساله الفرقان ریوه اگست ۱۹۵۰ء مت