تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 535
۵۳۳ لا عام مسلمانوں نے جس انداز سے قادیانیوں کی مخالفت کی ہے اس سے اس جماعت کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا فائدہ۔قرآن نے مسلمانوں بلکہ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان فوقیت پانے کا طریقہ یہ بتایا تھا کہ نیک کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں اور اللہ انہیں جزا دے گا۔انسانی زندگی کا یہ اٹل قانون دور حاضر کے بعض مناظرین نے پوری طرح نہیں سمجھا۔عیب جوئی ، مخالفت اور تشدد سے دوسرے فرقوں اور جماعتوں کی ترقی بند نہیں ہو سکتی جو فرد اپنی جماعت کی ترقی چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیک کاموں میں دوسروں سے بڑھ جائے۔ہمارے بزرگوں نے عام مسلمانوں کو نظم و نسق ، مذہبی جوش اور تبلیغ اسلام میں مرزائیوں پر فوقیت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھائی بلکہ بیشتر فوں اور عام مخالفت سے فتنہ قادیان کا ستہ باب کرنا چاہا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کسی قوم کے ساتھ بے جا سختی کی جائے تو اس میں ایثار اور قربانی کی خواہش بڑھ جاتی ہے چنا نچہ جب کبھی عام مسلمانوں نے قادیانیوں کی مخالفت میں معمولی اخلاق ، اسلامی تہذیب اور رواداری کو ترک کیا ہے تو اُن کی مخالفت سے قادیانیوں کو فائدہ ہی پہنچا ہے۔اُن کی جماعت میں ایثار اور قربانی کی طاقت بڑھ گئی اور اُن کے عقائد اور بھی مستحکم ہو گئے ہیں نہ لے۔ایڈیٹر صاحب " اخبار صداقت گوجرہ نے اعترا منہ کیا :- احرار کی تحریک ناکامیوں سے پڑ ہے۔دور جانے کی کیا ضر درست۔ختم نبوت کا تحفظ آپ کے سامنے ہے ست تو کار زمیں رانکو ساختی که با آسمان نیز به داختی ربوہ موجود۔اس کے کالج اور سکول موجود یہ نہیں ) اخبار اور مبلغ توجو ان کا عقید: اجرائے نبوت موجود۔۔۔۔۔۔۔حق کو مثانے والے آپ اله موج کوثر مر ۱۹ مؤلف جناب شیخ محمد ایم ایم سے نایا اور پشاور ای بی والا