تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 534
۵۳۲ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان مال داروں کو احمدیت کی طرف ہدایت دے دی۔لاقات کے وقت ہر شخص جو اس علاقہ کا آتا ہے اس سے دریافت کیا جائے کہ تمہاری کشتی " زمین ہے تو وہ کہتا کہ دس مریعے یا بیس مربعے یا چالیس مربعے اور اس وقت مربعے کی قیمت ۵۰، ۶۰ ہزار روپیہ ہے۔بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کے پاس آٹھ مریعے سے کم نہ مین ہوتی ہے۔اگر ٹوٹل کیا جائے تو میرے خیال میں یہاں ایک ہزار مربع جماعت کا ہو گیا ہے گو یا پانچ کروڑ کی جائیداد صرف اس ضلع میں پیدا ہوگئی ہے۔اور یہ انقلاب ایک تھوڑے سے عرصہ میں ہوا ہے۔صرف تین سال کی بات ہے کہ جب یہ انقلاب ہوا۔اب دیکھ لو یہ معجزہ ہے یا نہیں۔پہلے اس علاقہ میں جس میں احمدی ہیں ایک پید منور الدین صاحب تھے وہ قادیان بھی گئے تھے۔واپس آکر انہوں نے اپنے مریدوں کو کہنا شروع کیا کہ مرزا صاحب کی بات سچی معلوم ہوتی ہے۔حضرت عیسی علیہ السّلام یقینا وفات پاگئے ہیں مگر سبب اُن کے مریدہ جماعت میں داخل ہو نے لگے تو انہیں ہماری جماعت سے بغض پیدا ہو گیا۔کیونکہ ہماری وجہ سے اُن کی آمدن کم ہو گئی۔کجا تو اُن کی یہ حالت تھی کہ علاقہ میں ان کی بڑی عزت اور قدر کی جاتی تھی اور کجا یہ کہ جب اُن کے تمام مرید احمدی ہو گئے تو انہیں رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی۔آخر ایک دوست صالح محمد صاحب نے انہیں اپنے بنگلہ میں ٹھہرایا اور پھر وہ اپنے وطن واپس چلے گئے۔مومن اللہ تعالیٰ احمدیت کی تائید میں ہمیشہ نشانات دکھلانا چلا آیا ہے۔لہ کے بعد جماعت احمدیہ کو جو حیرت انگیر ترقیات پاکستان اور بیرون ممالک میں ہوئی اس کا دا منح اقرارہ غیر از جماعت کے ممتاز ادیبوں، عالموں بلکہ جماعت اسلامی اور احراری حلقوں کی طرف سے کیا گیا۔بطور ثبوت چند تاثرات و آبداء درج ذیل کیے جاتے ہیں۔۱ - شیخ محمد اکرام صاحب ایم اے مورخ پاکستان نے “ موج کوثر میں لکھا :- له الازهار لذوات الخمار من ۲ حصہ دوم طبع دوم (مرتبہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکز میں ناشر - دفتر لجنہ اماء الله مرکز به سه بوده