تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 531 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 531

۵۲۹ کے لیے گیارہ سال قید فرنگ میں رہا۔لاکھوں روپے ضبط کرائے۔عیس کا ضبط شدہ پر لیس آج بھی بورسٹل جیل کے سرکاری پریس میں موجود ہے اور جہاں اس کا پوتا مسعود علی خان اور کس مینجر کی حیثیت سے با ملازم ہے۔یہ بلڈنگ اسی ظفر علی خاں کی ہے۔ظفر علی خاں جس نے پنجاب کے سیاسی دویرانوں کو رنگ وروغن بخشا جس نے ہمیں حریت آشنا کیا میں نے تبکروں میں آذان دی۔لیکن جب آزادی کا آفتاب طلوع ہوا تو وہ صرف دو چراغ محفل تھا۔قلم کی آبرد صنعت کاروں " کو منتقل ہو گئی۔اخبارات عظیم الشان عمارتوں کے استحصال خانوں میں باندار کی جنس ہو گئے اور یہ مارت جو قومی یادگار ہونی چاہیئے تھی قرض میں نیلام ہوگئی۔اب ستم ظریفی حالات نے اس کو زمیندار ہوٹل میں بدل ڈالا ہے جہاں راتیں جاگتی اور دن سوتے ہیں۔جی ہاں انہی کمروں میں بیٹھ کر ظفر علی خاں نے بارگاہ رسالت تاب میں ہدیہ ہائے عقیدت پیش کیے تھے اب اس کے در و دیوار دیدہ ہائے عبرت سے رجبل رشید کا انتظار کر رہے ہیں کیا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری امیر شریعت احرار نے اس ایجی ٹیشن میں سب سے نمایاں حصہ لیا اُن کے جوش کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے متعد دبار اور متعدد مقامات پر خواجہ ناظم الدین فضا