تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 44 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 44

۴۴ کیا۔غرضیکہ کوئی ایسی تکلیف نہ تھی جو مجھے نہ دی گئی ہو۔ایک دن میں ایک شدید دشمن سے ڈر گیا اور نماز ظہر ہیں سخت رویا کہ مونی کریم اب میں کیا کروں۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی شخص اس دن سے میرا دوست بلکہ میرا محافظ بن گیا۔الحمد للہ کہ میں احمدیت پر قائم ہوں " - کرم شیخ صاحب دین صاحب کا بیان ہے کہ ہ سات اور آٹھ مارچ کی درمیانی رات کو قریباً دس بجے شب کے ۱۶ ۷٫ استریوں کا ایک ٹولہ جو کہ چھروں سے مسلح تھا نعرے لگاتے ہوئے ہمارے کارخانہ اور رہائشی مکان کی طرف سوچی سمجھی ہوئی کے ماتحت حملہ کرنے کی غرض سے آیا۔ہمارے مکان سے تمیں چالیس گز کے فاصلہ پر بعض شریعت اہل محلہ جو بیدار تھے اور ایک طرح سے پہرہ دے ہے تھے انہیں روک دیا۔اللہ تعالیٰ نے اُن پر رعب ڈالا اور وہ واپس چلے گئے۔لیکن صبح ہونے پر اہل محلہ نے غالبا شٹریہ لوگوں کے کہنے پر ہمیں یہ کہا کہ فضا بہت خراب ہے اور ہماری طاقت سے باہر ہو چکا ہے۔اب آپ خود اپنی حفاظت کا انتظام کر لیں۔یا شہر چھوڑ دیں۔ہم نے کہا ہم جگہ نہیں چھوڑ سکتے۔اللہ ہی ہماری حفاظت کرے گا۔وہی حافظ و ناصر ہے۔چنانچہ اسی مولیٰ نے ہی ہماری حفاظت فرمائی اور ہم جانی نقصان سے محفوظ رہے۔البتہ مالی نقصان ضرور ہوا ہے۔وہ اس طرح کہ اس تمام دورانِ شورش میں ہمارے پاس بیرون جات یا شہر سے کوئی بیو پاری ہمارے کارخانہ میں نہیں آیا کیونکہ خفیہ بھی اور ظاہراً بھی ہم پر پکٹنگ لگا رہی ہے۔الخ ، ۹ مکرم محمود احمد جان صاحب کا بیان ہے کہ : مد ہار مارچ ء کی رات کو ہمارے کارخانہ ایم اے رشید اینڈ سنٹر کرشن نگر گوجرانوالہ / میں لوگوں نے دو دفعہ آگ لگائی لیکن دونوں دفعہ ہی جلدی قابو پالیا گیا۔انداز انقصان تین چار سو روپیہ کا ہوا۔اسی رات پولیس کو اطلاع دی گئی تھی۔پونیں بعد میں چکر لگاتی رہی مگر اس کے بعد بھی دو تین دفعہ لوگ جلوس کی شکل میں ہمارے کارخانہ کے ارد گرد چکر لگاتے رہے اور گالیاں نکالتے رہے یہ