تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 528
۵۲۶ پر حرارت باقی رہی جماعت کے رسائل و اخبارات اس مسئلہ پیر سلسل لکھتے رہے جب قضا ٹھنڈی ہو گئی جماعت نے بھی مسئلہ کا نام لینا بند کر دیا اور آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ مرے سے پیدا ہوا ہی نہیں تھا ! یہ پوری داستان بے اصولے پن اور عوام پرستی کا شاہکار نہیں تو اور کیا ہے ؟" سے مجلس احمرارہ اور جماعت اسلامی کی جنگ زرگری زور شور سے جاری تھی کہ دوسرے مکاتیب فکر کے علماء بھی میدان تکفیر و تفسیق میں اتر پڑے اور کفر سازی کی مہم یکا یک نہ دور پکڑ گئی میں پر مولانا حکیم عبد الرحیم صاحب اشرت مدير المنبر نے حسب ذیل حقیقت افروز نوٹ سپرد قلم فرمایا :- ختم نبوت کا ایک لازمی تقاضا یہ تھا کہ امت محمد به بنیان مرصوصی کی حیثیت سے قائم على الحق رہتی۔اس کے جملہ مکاتیب فکر اور تمام فرقوں کے مابین دین کی اساسات کچہ اس نوع کا اتحاد ہوتا جس نوع کا اتحاد ایک صحیح الذ من اسمت میں ہونا ناگزیر تھا لیکن غور کیجئے کیا ایسا ہوا ہے بلاشبہ ہم نے متعد د مراحل پر اتحاد امت کے تصور کو پیش کیا اور سب سے زیادہ قادیانیوں کے خلاف مناظرہ کے سٹیج سے ڈائرکٹ ایکشن کے ویرانے تک ہم نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کے تمام فرقے - یکجان ہیں لیکن کیا حقیقتاً ایسا تھا۔کیا حالات کی شدید سے شدید تر نامساعدت کے باوجود ہماری تلوار تکفیر نیام میں داخل ہوئی ؟ کیا ہولناک سے ہولناک تر واقعات نے ہمارے فتاوی کی جنگ کو ٹھنڈا کیا۔کیا کسی مرحلہ پر بھی ہمارا فرقہ حق پر ہے اور باقی تمام جہنم کا ایندھن ہیں کے نعرہ سے کان نامانوس ہوئے ؟ اگر ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تو بتائیے اس سوال کا کیا جواب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھنے والی امت کے اگر تمام فرقے " کافر ہیں اور ہر ایک دوسرے کو میبنی کہتا ہے تولا محالہ ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو سب کو اس کفر اور جہنم سے نکال سہ تحریک جماعت اسلامی از ڈاکٹر اسرار احمد ایم اے ایم بی بی ایس شائع کر دہ دارالاشاعت الاسلامیہ کرشن نگر را بورس ۱۸۸ تا ۱۹۳ طبع اول محرم الحرام ۸۶ ۳واعد اپریل ۱۹۶۶ء سے المنیر و مارچ ۱۹۵۶ درس i i