تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 525
۵۲۳ طرح سیاسی ہنگامہ آرائیوں میں الجھا دیا حتی کہ اسلامی نظام کی حیثیت ہمارے ہاں محض ایک نفر سے کی رہ گئی اے حکیم عبدالرحیم صاحب اشرف نے جماعت اسلامی سے خروج کے بعد پے در پلے تنقیدی مضامین لکھے جن میں واضح الفاظ میں بتایا کہ " مولانا مودودی صاحب نے اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی اور قرآن کی چار بنیادی اصطلا میں اسے حسن اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تھا وہ اب ایک ایسے اسلام کی شکل میں ہمارے سامنے ہے جس کی روح تعلق باللہ، اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید ، ایمان بالغیب اللہ تعالیٰ کی عبادات میں انہماک اتقویٰ کی حقیقت کو پانے کے اساسات پر مبنی نہیں بلکہ اس کی حقیقی روح اسلام کے سیاسی نظام کو قائم کرنا ہے اور جماعت کے اندر اصل قیمت صرف اس چیز کی ہے کہ پر دیگنڈے ، نشرو اشاعت مخالفین کی سرکوبی ، اخبارات میں نمایاں ہونے ، دوسرے۔دوسرے سے گٹھ جوڑ کرنے کی صلاحیت کی مقدار کس قدر پائی جاتی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔رہا طریق کار اور وسائل تو وہ چونکہ مقصود بالذات نہیں ہیں اس لیے ان میں اگر کچھ اجزاء باطل، جھوٹ ، فریب ، فساد انگیزی اور اسلام کی عام تعلیمات کی رو سے ناجائز کر دہ باتوں کے شامل ہو جائیں تو انہیں بوقت ضرورت اختیار کیا جا سکتا ہے بالفاظ دیگر جماعت جس فلسفہ میکا دلی کے استیصال کے لیے اٹھتی تھی۔یہی اس کا محور فکر د عمل بن رہے ہیں۔اسی پر اکتفا نہیں میں جماعت کے قائدین کا موقف یہ سمجھتا ہوں کہ وہ ان تمام باتوں کے جوانہ کے لیے قرآن اور حدیث سے استدلال کہیں اور اپنی ہر غلطی کو اسوۂ رسالت سے سند جوانہ عطا کریں جماعت اسلامی کے ایک سابق رکن ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے احراری تحریک میں مولانا مودودی اور ان کے رفقاء کی شرکت کو بے اصولے پن اور عوام پرستی کا شاہکار قرار دیتے ہوئے لکھا:۔که روزنامه تسنیم لامبور و مجبوری کا سا کام نمبر ۲ ۱۹۵۶ء ه المنبر ۴ اکتوبر ۱۹۵۷ء مستری