تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 517 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 517

چنانچہ مولانا سید ابو الا علی صاحب مودودی امیر و بانی جماعت اسلامی نے احراریوں کی ستریک ختم نبوت کی نسبت اپنی رائے یہ دی کہ : - اس کارروائی سے دو باتیں میرے سامنے بالکل عیاں ہو گئیں۔ایک یہ کہ احرار کے سامنے اصل سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں ہے۔بلکہ نام اور سہرے کا ہے۔اور یہ لوگ مسلمانوں کی جان ومال کو اپنی اغراض کے لیے جوئے کے داؤں پر لگا دینا چاہتے ہیں۔دوسرے یہ کہ رات کو بالاتفاق ایک قرار داد طے کرنے کے بعد چند آدمیوں نے الگ بیٹھ کر ساز باز کیا ہے اور ایک دوسرا ریزولیوشن بطور خود لکھ لائے ہیں جو ہر حال کنونشن کی مقرر کردہ سبجیکٹس کمیٹی کا مرتب کیا ہوا نہیں ہے میں نے محسوس کیا کہ جو کام اس نیت اور ان طریقوں سے کیا جائے اس میں کبھی خیر نہیں ہو سکتی اور اپنی اعراض کے لیے خدا اور رسول کے نام سے کھیلنے والے جو سلمانوں کے سروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کہ میں اللہ کی تائید سے کبھی سرفراز نہیں ہو سکتے ہے لا ہفت روزہ المنبر - ار جولائی ۱۹۵۵ ءمت۔اس بیان پر جناب حمید نظامی صاحب مدیر اخبار نوائے وقت لاہور) نے حسب ذیل ادارتی نوٹ سپرد قلم کیا۔آن ۲۳/۲۰ ماه بعد اس انکشاف سے تو ایک عام آدمی اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپ کے سامنے بھی سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں نام اور سہرے کا تھا اور آپ اپنی اعزام کے لیے خدا اور رسول کے نام سے کھیل رہے تھے اور آپ نے بھی مسلمانوں کے جان ومال کو اپنی اعزامی کیلئے داؤ پر لگا دیا کہ دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ جو پوری محبت اسلامیہ کی انقلابی قیادت کے دعویدار اور امارت کے مدعی ہیں کیا آپ ایسے ہی ڈھلمل یقین آدمی ہیں کہ خود اپنے قول کے مطابق آپ یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ میں نے فوراً یہ رائے قائم کی کہ مجھے اٹھ کہ ابھی کنونیشن سے علیحد گی کیا اعلان کر دینا چاہیے چنانچہ میں نے۔۔۔۔۔لیکن چند ہی منٹ بعد دوسرا خیال میرے ذہن میں آیا۔۔۔۔اور آپ نے اپنی رائے بدل دی اور آپ کو فیشن سے بچنے رہے اور اب پورے سوا در سال بعد آپ کو یہ خیال آیا کہ آپ کو مسلمانوں کو اس خطرہ سے خبر دار کر دینا چاہیے اخروہی فرمائیے باقی ملا حاشیہ پر )