تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 515 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 515

۵۱۳ اور احتساب جماعت کا کون سا طریقہ ان کے نزدیک سخن و موزوں ہے۔مقصد روپیہ جمع کرنا تنخواہیں بانٹنا اور اثر بہت چلانا یا تحفظ ختم نبوت الخ ر هفت روزه رساله چینان لامور اشاعت ۲۳ ر مار په ۶۱۹۶۶ ناظرین غور فرمائیں کہ یہ سب رونا ان کے گھر سے رویا جا رہا ہے اور اس سے واضح ہے کہ تحفظ ختم نبوت کا دیو بندی مقصد کیا ہے اور روپیہ ان کے تقوی کا کس طرح دیوالہ نکال رہا ہے۔ختم نبوت کے نام پر دولاکھ روپیہ کی بنہ بانٹ " حکومت سے مرزائیوں کو پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لیے مارچ ۱۱۵۳ میں عظیم عالم المسمنت حضرت مولانا ابوالحسنات سید محمد شاہ صاحب خطیب جامع مسجد وزیر خان لاہور کی صدارت میں ایک تحریک چلی دیو بندی مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری و محمد علی جالندھری نے بھی تحریک میں شمولیت حاصل کر کے اسی تحریک کے نام پر ملک کے مختلف شہروں سے لاکھ روپیہ جمع کر لیا کہ یہ روپیہ رضا کاروں اور تحریک کے ضروری مصارف پر خرچ کیا جائے گا حکومت پاکستان اس تحریک کے خلاف تھی اس لیے اس نے اس تحریک کے مشہور افراد حضرت مولنا ابوالحسنات مرحوم و حضرت مولنا صا حبزادہ فیض الحسن شادها مدخلا اور مولوی عطا الله شاه محمد علی کو گر فسانہ کر کے سکھر جیل بھیجد یا مبینہ طور پہ مولوی عطا اللہ شاہ گرفتاری کے دست یہ دو لاکھ روپیہ اپنے بیٹے کے سپرد کر گئے کہ اس خواب دارین کی پورمی نگرانی کرنا نہاری پشتوں کے لیے کافی ہوگا مگر حسب جیل میں محمد علی جالندھری کو پتہ چلا کہ اس روپیہ یہ عطا اللہ شاہ بخاری وحدہ لاشریک قابض ہو رہا ہے تو جالندھری صاحب کا ہارٹ فیل ہو نے لگا بخاری صاحب سے کہنے لگے کہ تحریک لو گرم کرنے کے لیے میرا جیل سے باہر جانا ضروری ہے بخاری سادب بھی معاملہ سمجھ گئے کہ یہ جرات بعض اس روپیہ سے پیٹ گرم کرنے کے لیے کی جارہی ہے انہوں نے بہتیں سمجھایا گر باندھری صاحب بالا خرد پیرول ضمانت و معافی پر جیل سے نکل آئے عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے اپنے فرزند ارجمند کو پیغام بھیجا کہ محمدعلی روپیہ پر نا تھے