تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 512 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 512

۵۱۰ ہم سب بشمول عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانامحمد جالندھری اس بات پر متفق ہیں کہ مرکز اور صوبہ میں وزارتی تبدیلی کے بعد ہم کو ہر قسم کی سول نافرمانی بند کر دینا چاہیئے۔روز نامہ جنگ کراچی - ارمٹی سد) دیوبندی مولویوں کا یہ بیان فہمیدہ لوگوں کو سمجھ میں نہیں آیا، اور اس سے ان کے کسی مخفی دنیاوی پر وگرام کے خدشات پیدا ہو گئے۔کیونکہ مطالبات مذکورہ واجبی اور دائمی تھے ، صرف وزارت کی تبدیلی پر مقصد برآمدی کا اظہار اور مطالبات سے دست برداری بعید از فہم تھی۔کیا تحریک سے مقصد وزارت کی تبدیلی تھی اور میں۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت نے تو مرزائیوں کو کافر تقرار نہ دیا۔البتہ دیو بندیوں نے الٹا تحریک ختم نبوت کے رضا کاروں کو کافر ضرور بنا دیا۔چنانچہ مورخه ۲۳ / اکتوبر ۹۶ که مطابق ۲۲ جمادی الاول ۱۳۲۸ھ کو دیو بندیوں کی مسجد مدینہ چاک منڈی چشتیاں شریف کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے انہیں مولوی محمد علی صاحب نے ایک جاہل نابکار کے اشارے پر یا اجرت وعظ کے اضافہ کے لالچ میں یہ الفاظ کہ ڈالے کہ جن لوگوں نے تحریک میں معافیاں مانگی نھیں وہ مسلمان نہیں رہتے ، ان کے پیچھے نمانہ نہ جائز ہے۔الخ۔مولوی صاحب کو شاید یہ الفاظ کہتے خیال نہیں آیا کہ وہ خود بھی اور ان کی ساری برادری اس کفر کی زد میں آگئی ، کہ وہ خود پیرول (معانی) پر جیل سے نکلے اور اکثر دیو بندی بھی مختلف طریقوں سے قبل از میعاد سزا یا فیصلہ تحریک جیلوں سے بھاگے۔چنانچہ مولوی صاحب کے اس معاندانہ فتوے کے بعد بعض لوگوں نے دیوبندی فرقہ کے معتمد مفتیوں سے جو فتوے طلب کیے اور انہوں نے اصل جواب دے کر جالندھری صاحب اور دیوبندیوں کی مکاری کا بھانڈا پھوڑا وہ مختصراً بالفاظ ملاحظہ ہو۔سوال :- کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ ہمارے چپک کے امام مسجد منا جو کہ عالم فاضل ہیں وہ تحریک خلاف مرزائیت 190 ء میں رضا کاروں کے ساتھ جیل میں گئے تھے۔پھر وہ معافی مانگ کر باہر آگئے تھے رالی قولہ دریافت طلب یہ امر ہے کہ جن لوگوں نے معافیاں مانگی منتیں وہ مسلمان رہے یا نہیں، اور ان کی امامت نماز شرعاً جائز ہے یا نہیں۔(مختصراً) الجواب علی امام موصوف کی اقتداء میں نماز درست ہے زندہ عبد الستار عفی عنہ