تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 506
اور لڑکیوں کے سامنے نگے ناچے بیچی بات ہے مجھے بہت بڑا لگا اور بڑی غیرت آئی کہ نام میں پاک رسول کا اور یوں گے تا ہیں چنانچہ میں نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور ان کی خوب گو شمالی کی اس پر میرے خلاف افواہ پھیلا دی گئی کہ بیتا بیانی ہے چنانچہ ایک روز آدھی رات کو کسی منچلے نے جنگلے سے آکر میرے خیمہ کو آگ دگارمی۔۔۔۔۔۔تحریک کے دوران عام لوگوں کا جوش دیدنی تھا ناموس محمد پر کٹ مرنے کا ایسا بے پناہ جذبہ تھا کہ تمام تر سختیوں کے باوجود کسی مرید پیر اس میں کوئی کمی نہ آئی لیکن افسوس کہ ان کے لیڈر بودے نکلے اور انہیں ناکامی در سوائی کا سامنا کرنا پڑا۔اس تحریک کے دوران سیاست دانوں اور علماء حضرات کا ایک عجیب اور افسوسناک رخ دیکھنے میں آیا وہی لوگ جو بڑھ پڑھ کر گرما گرم تقریریں کرتے اور نعرے لگاتے تھے کہ جو بھی ہو کسی کو گولی نہیں لگے گی لیکن حقیقتاً جب گولی چلی تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہی لوگ تھے جنہوں نے سب سے پہلے راہ فرار اختیار کی۔دکانیں بند تھیں ، انہوں نے دکانوں کے بھڑوں کے آگے گئے شختوں کے نیچے سے اور نالیوں میں سے گزر کر اپنی جان بچائی۔چند جذباتی نوجوان سینے تان کر سامنے آئے لیکن یہ بھاگ نکلنے مارشل لاء لگا تو لیڈر غائب ہی ہو گئے جیسے ان کا کبھی دنجود ہی نہ رہا ہو بیست۔چھپ گئے یا ادھر اُدھر بھاگ گئے۔۔۔۔۔ایک اور لیڈر کا بتا ؤں جو آج بھی حیات ہیں اور بڑے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔جب مارشل لاء لگا تو وہ مسجد وزیر خاں میں تھے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے اور ان کی تلاش ہونے لگی انہوں نے ڈاڑھی منڈوا دی اور چھپ گئے لیکن جلد ہی پکڑے گئے لیتے لیے وقت ۲۵ مارچ ۱۹۵۳ء صفحہ علا پر حسب ذیل خبر شائع ہوئی تھی :- ہوا۔پنجاب اسمبلی کے ایک رکن مولانا عبدالست زنانه می آج قصور میں گرفتار کر لیے گئے۔نے دوست احمد بیگرین نیم تا با فروری ۱۹۸۵ء مرت ص