تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 505 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 505

تذلیل کے در پے ہو گا۔۔۔۔۔بکا اس کے بعد لکھا : - قادیانی جماعت ان تمام مخالفتوں کے علی الرغم بڑھتی چلی گئی اور آج مخالفت کے جتنے طوفان اس کے خلاف اٹھے ان کی لہریں تو آہستہ آہستہ ابھرتی رہیں لیکن یہ گردہ پھیلتا چلا گیا۔۔۔خوب اچھی طرح سمجھ لیجیے کام کا جواب نعروں سے مسلسل جد وجہد کا توڑ اشتعال انگیزی سے علمی سطح پر مساعی کو ناکام بنانے کا داعیہ صرف پھیپتیوں، بے ہودہ جلوسوں اور ناکارہ ہنگاموں سے پورا نہیں ہو سکتا۔اس کے لیے جب تک وہ اندازہ اختیار نہ کیا جائے جس سے فکری اور عملی تقاضے پورے ہوں ہنگامہ خیزی کا نتیجہ وہی برآمد ہو گا جس پر مرنا صاحب کا الہام " انی مهين من ارادا ما نتك صادق آئے گا۔جو لوگ اس طرز پر مثبت کام نہیں کر سکتے وہ قادیانی تحریک کے صحیح حامی و مددگار ہیں وہ اس نہج پر جتنا کام کر یں گے اس سے یہ تحریک تقویت حاصل کرے گی کے کی انیٹی احد یہ تحریک میں شورش پسند علما کی باطنی کیفیت جس طرح ملک کے ہر طبقہ کے سامنے آشکارا ہوئی اور ان کے اخلاق و ایمان کا سارا مجرم کھل گیا۔وہ بھی اس الہام کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت تھا چنانچہ جامعہ رشیدیہ منٹگمری (ساہیوال) کے صدر تحریر فرماتے ہیں:۔" ختم نبوت کے زمانہ میں تمام علماء کا کھرا کھوٹ قوم نے دیکھ لیا ہوا ہے، سے اس اجمال کی تفصیل تو بہت طویل ہے بطور نمونہ صرف چند واقعات کا ذکر کافی ہوگا۔انٹیلی جنین میور د کے سابق ڈائریکٹر جنرل ایم اے چوہدری کی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ :- ۱۹۵۳ء میں جب قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی تو میں لاہور میں تھا۔۔۔ایک واقعہ یاد ہے یو نیورسٹی کے سامنے بدمعاش ننگے ناچے تحریک کا ابھی آغاز تھا اس لیے تعلیمی ادارے کھلے ہوئے تھے انہوں نے اچھل اچھل کر ختم نبوت کے فرے لگائے له المنیر ، راگست ۱۹۵۵ء ص ۱۰-۴-۱ شه رسالہ تعلیم القرآن راولپنڈی) جولائی اگست ۱۹۶۰ ء ما ۱۳ بحواله رساله " الفرقان ربوہ اگست ۱۹۶۰ء ص ۳۲