تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 495 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 495

۴۹۳ اس را تراری) کمیٹی نے بعد میں جب اپنے آپ کو راست اقدام کرنے والی کمیٹی میں بدل دیا تر ایجی ٹیشن نے ایک انتہائی بد نما رخ اختیار کرلیا۔تحقیقاتی کمیشن جسٹس منیر اور جسٹس ایم آر کیانی کی سر کر دگی میں مقرر کیا گیا۔ان کی رپورٹ منیر رپورٹ کے نام سے مشہور ہے اس قضیہ کو اس رپورٹ میں مختصر یوں بیان کیا گیا ہے - ایک اسلامی ریاست میں یا یوں کہیے کہ اسلام میں مسلمان اور غیر مسلمان رعایا کے حقوق میں ایک بنیادی امتیاز ہے۔جسے فوراً بیان کیا جا سکتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ غیر مسلمان کو ریاست کے اعلیٰ انتظامی امور میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔اس لیے اگر احمد می مسلمان نہیں ہیں۔بلکہ کافر ہیں۔تو وہ کسی بھی اعلیٰ ریاستی منصب پر فائز نہیں رہ سکتے۔اور مطالبہ کی شرط عل است بطور استنباط یہ دو مطالبے کیے گئے۔کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو ہر طرف کیا جائے۔اور دوسرے احمد ہی جو ریاست کے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔انہیں بر خواست کیا جائے۔اور تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ احمدیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اپنی شہادت کے دوران مختلف علماء نے یہ دعوی کیا۔کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی قانون سازی نہیں کوئی آواز نہ ہوگی۔اور وہ قانون کی تنفیذ میں کوئی اختیار نہ رکھیں گے۔اور کسی پبلک عہدہ پر مقرر نہ کیے جا سکیں گے۔فوج ، عدالت۔وزارت میں یا کسی ایسی اسامی پر جہاں اعتماد کا سوال ہو ملازم نہیں رکھتے جائیں گے۔اور جب ان کے سامنے یہ سوال پلیٹی کیا گیا۔کہ آیا مسلمانوں سے بھی ہندوستان میں ایسا ہی سلوک کیا جائے۔تو مودودی اور دوسرے علماء۔نے بے لاگ جواب دیا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہو گا اگر مہندوستان میں مسلمانوں سے بیلیچھوں یا شودروں والا سلوک کیا جائے۔یہ قرآنی نظریے کی عملی شکل تھی۔اُنہوں نے اس بات میں بھی نہایت بے باکی سے اعتراف کیا۔کہ ایک سچا مسلمان رجیسا کہ ان کے خیال میں ایک سنچا مسلمان ہونا چاہیئے) کسی دوسرے غیر مسلم ریاست کا دفادار شہری بن کر نہیں رہ سکتا۔مولانا تاج الدین النسار می نے بیان کیا۔کہ اسلامی نظریے کے تحت تو وہ ایک منٹ کے لیے بھی ہندوستان میں قیام نہیں کر سکتے۔جمعیت العلماء پاکستان کے مولانا ابو الحسنات محمداحمد قادری نے بیان کیا۔کہ پاک رہند کے درمیان جنگ کی صورت میں مسلمانان