تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 491 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 491

پنجاب کے مشہور اہلحدیث خاندان کے چشم و ایک اہلحدیث عالم دین کا نعرہ حق چراغ مولانا غلام علی الدین کھوی نے اگو پر نمبر 1 ہر متصل پتو کی ضلع لاہور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :- ہر وہ شخص جو پنجگانہ نماز ادا کرتا ہے مسلمان ہے خواہ وہ کوئی بھی عقیدہ رکھتا ہو۔۔۔۔۔تحقیقاتی عدالت میں کسی عالم دین کو مسلمان کی تعریف کرنا نہیں آئی۔حالانکہ حدیث کی رو سے مسلمان وہ جو حدیث من صلى صلوتنا واستقبل قبلتنا رَاكَلَ ذَبِيحَنا پر عامل ہے۔اخبار الاعتصام لکھتا ہے کہ :۔اس موقع پر انہوں نے تمام علماء کو جاہل قرار دیا ایک شخص نے اٹھا کر کہا کہ قادیانیوں کے بارہ میں جناب کا کیا خیال ہے ؟ جبکہ وہ اس حدیث پر بھی عامل ہیں یا مولانا نے فورا جواب دیا کہ وہ مسلمان ہیں کے لئے ۹۱ - میاں محمد طفیل اینڈ میر رسالہ نقوش و بر صغیر کے تمتاز ادیب اور سکالر کی رائے سیکرٹری جنرل پاکتان رانا گڑ نے کھا۔مجھے یا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم کسی کو کافر اور کسی کو مسلمان کہیں جبکہ آج تک یہی پسند نہ چلا ہو کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے۔۱۹۵۳ء میں احمدی ایجی ٹیشن کے خلاف بجو انکوائر می کمیٹی بیٹی تھی اس نے تمام علما ء سے سوال کیا تھا کہ پہلے یہ بنا بیٹے کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے وہاں مختلف عقائد کے علماء جمع تھے۔سب ایک دوسرے کا منہ دیکھ کہ رہ گئے اس لیے کہ مسلمانوں میں بھی تو کئی عقیدوں کے لوگ ہیں جیسے شیعی، خارجی معتزلی، وہابی ، احمد می رسائی ، نیچرمی وغیرہ۔ہمارا مولوی تو دوسرے عقیدے والے کو پھٹ سے کا فر کہہ دیتا ہے۔مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہم مولویوں کی نظر میں مسلمان نہیں ہیں اسلیے کہ جو خدا کی وحدانیت اور رسول کی رسالت پر ایمان رکھتاگی کافر کیسے ** له مکتوب محمد یوسف ناظم جمعیتہ الحدیث گوہر عم متصل پتھر کی ضلع لاہور رہفت روزہ الاعتصام لاہور ۲۶ نومبر ۱۹۵۳ ء م در کالم على