تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 488
کہتا جائے کیا (رسالہ اہلسنت والجماعت (ص ۲۳) اسلام اور ایمان کے مقابلہ میں کفر اور انکار ہے۔جو مسلمان نہیں رہ نامسلمان ہے اور یعلوم ہو چکا ہے کہ مسلمان کون ہے اور اس کے لیے کن باتوں کا مانا ضروری ہے۔پس میں شخص کو ان باتوں سے انکار ہے وہ نامسلمان ہے۔یہ بات اتنی واضح ہے جس پر بحث کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔تاہم وضاحت کے لیے یہ کہنا شاید نا مناسب نہ ہو گا کہ کفر کی بنیا د انکار و تکذیب ہے الشاويلُ فَرْعُ القبول رتاویل قبول و تسلیم ہی کی ایک شکل ہے) امام غزالی فرماتے ہیں :۔أَمَّا الْوَصِيَّةُ فَاَنْ تَكُنَّ لِسَانَكَ عَن تَلْفِيْرِاهْلِ الْقِبْلَةِ ما اَمْكَنَكَ مَادًا مُوا قائلين لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ غَيْرُ مُنَافِقِينَ لَهَا وَالْمُنَا فَقَةٌ تَجْوِيزُهُمُ الْكَذِبَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُذْرٍ أو بِغَيْرِ مُدْرٍ فَإِنَّ التَّكْفِيرَ فِيْهِ خَطَرُ وَ السكوتُ لا خَطَرَ فِيهِ - دا لتفرقة بين الاسلام والزندقہ مت ) (ترجمہ) میری نصیحت یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے اہل قبلہ کی تکفیر سے اپنی زبان کو رو کو جب تک کہ وه لا اله الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے قائل رہیں اور اس کے خلاف نہ کریں اور خلاف یہ کہ حضور صلعم کو کسی عذر یا بغیر عذر کے کا ذب قرار دیں۔کیونکہ کسی کو کافر کہنے میں بڑے خطرات ہیں اور سکوت میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔چونکہ امام صاحب نے مسئلہ تکفیر کی گہری ریسرچ کی ہے اور کتاب التفرقہ اسی موضوع پر لکھی ہے۔اس لیے انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ مسلمانوں کے فرقے جب