تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 487
ار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔نمازہ کا قیام - زکواۃ کی ادائیگی۔بیت اللہ کا حج۔رمضان کے روزے۔ہے۔(بخاری کتاب الایمان) - جس شخص نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کو مانا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو وہ سلمان ر مشکلاق - مسلم کی تعریف میں خدا نے بعد کچھ بتایا ہے کیا صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دوسری راہ اختیار کی با ایمان کی تعریف میں اور مسلم کی تعریف میں اسلام کی بنیا دیں کیا ہیں ؟ اس کا اجمال قرآن میں اور تفصیل صاحب قرآن کے فرمان میں ہے۔پس جو شخص جو فرقہ ایمان و اسلام کی ان تمام باتوں کو مانتا ہے۔وہ سچا مسلمان اور پکا ایماندار ہے۔کسی کو حق نہیں کہ کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر کسی کو اسلام سے خارج کرے اور کتاب اللہ اور ارشادات رسول سے تجاوز کر کے صرف اپنے اسلام کاڈھنڈورا پیٹے۔البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیات اور احادیث مسلم کی تعریف میں کار آمد نہیں ہو سکتیں۔کچھ اور آیات اور احادیث ہیں جو لفظ مسلم کی تعریف میں قول فیصل کا حکم رکھتی ہیں۔اگر ایسا ہے تو وہ آیات اور احادیث پیش کرو اور ان میں اپنی طرف سے کچھ نہ ملاؤ۔مطلب یہ ہے کہ اسلام سے اس فرقہ کو خارج کر د جسے کتاب اللہ اور اقوالِ رسول اللہ " خارج کریں اور ان فرقوں کو سلمان سمجھو جن کو خدا اور رسول مسلمان قرار دیں۔ایک حرف کی کمی بیشی نہ کرو - الحفاظ اور ان کا صحیح مفہوم جوں کا توں رہنے دو۔اور پھر دیکھو کہ اسلام میں کون داخل ہوتا اور اس سے کون خارج ہوتا ہے۔اس موقعہ پر علامہ سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول بھی یادرکھنے کے قابل ہے :۔بخاری میں ہے کہ ایک دفعہ ایک صاحب کو ایک مسلمان غلام آنها دکرنا تھا۔وہ احمق سی کوئی جبشیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے اور دریافت کیا کہ کیا یہ مسلمان ہے ؟ آپ نے اس سے پوچھا کہ خدا کہاں ہے ؟ اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھادی آپ نے ان صاحب سے فرمایا لے جاؤ یہ مسلمان ہے۔اللہ اکبر ! اسلام کی حقیقت پر کتنے پہ دے پڑ گئے ہیں آپ اسلام کے لیے آسمان کی طرف انگلی اٹھا دینا کافی سمجھتے ہیں۔لیکن ہمارے نہ دیک، آج کوئی مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا۔جب تک کہ نسفی کے بندھے ہوئے عطا کا پر حرفاً حرفا آمنت نہ