تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 480
میں یہ انکشا نہ کیا ہے۔کیا جتنے علماء اس تحقیقات میں شہادت دینے تشریف لائے۔ہر ایک سے یہ سوال کیا گیا۔کہ دو مسلمان کی تعریف کیا ہے ؟ ؟ اس کے جواب میں دو علماء بھی متفق نہ پائے گئے۔حتی که مولوی امین احسن اصلاحی صاحب بھی مسلمان کی تعریف میں اپنے امیر مولانا ابوالاعلی مودودی صاحب سے متفق نہ نکلے۔مشاہدات یہ بتا رہے ہیں۔کہ مسلمان جھوٹ بولے ، دھوکہ کرے ، فریب کرے ، قتل کرے اور ہی کرے ، شراب پیئے ، زنا کرے ، غیبت کرے ، بہتان اٹھائے ، عیب لگائے ، اغوا کرے ، غداری کرے ، نمازہ نہ پڑھے ، روزے نہ رکھے ، زکواۃ نہ دے، غیر اللہ کو مسجد سے کرے غرض یہ کہ جو جی چاہے کرتا پھرے۔نہ ایجان بگڑ سے نہ اسلام جائے کہ قرآن کریم میں اوامر ہیں، نواہی ہیں، ملال ہیں ، حرام ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی المات اور اتباع کے فرمان ہیں۔اخوت اسلامی کے لوازم نہیں ، حقوق اور فرائض ہیں۔مگر ان پر عمل کس کا ہے؟ یہ اتنی ضخیم کتاب ہدایت کیوں نازل ہوئی یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اتنی تکالیف اور اتنے مصائب کیوں اٹھائے یا جس مذہب کے ماننے والے مندرجہ بالا تمام امور کے ارتکاب پر بھی جنت کے سختی رہیں۔اس کی مخالفت کی ضرورت کیا تھی ؟۔آج مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ " اسلام ہے کیا ؟ کیا قرآن مبین ادر را حادیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں بنایا جائے گا۔کہ۔" اسلام نے کیا ہے ؟ اور مسلمان کی صحیح تعریف کیا ہے ؟ بینوا۔تو جر دا ہے - مولانا عبد الماجد صاحب دریا آبادی مدیر صدف جدید" نے " خارجیت کی جارحیت کے مدیر عنوان لکھا : - N انٹی احمدیہ بلوں کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے دو سوالوں کے دو جواب : - (۱) کیا آپ ہندوؤں کا جن کی عمارت میں اکثریت ہے۔یہ جی تسلیم کریں گے کہ وہ اپنے ملک کو مہندو دھارمک کی ریاست بنائیں ؟ جواب۔جی ہاں۔کیا اس طرز حکومت میں سو سمرتی کے مطابق مسلمانوں سے ملیچھوں یا شودروں کا لہ ہفت روزہ الاعتصام لاہور ، اکتوبر ۱۹۵۵ء ص ۵ کالم لا