تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 478
تحقیقاتی عدالت نے کسی غلطی کے بغیر اپنی انگلی ہر ایک کمز ور جگہ پر رکھی ہے۔ایک طرف تو مچ صاحبان نے واقعاتی اور اخلاقی ذمہ داری جو افراد اور تنظیموں پر عائد ہوتی تھی۔اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔تو دوسری طرف عدالت نے ضروری سمجھا ہے۔کہ ان نفسیاتی محرکات کا تجزیہ کرے۔جس نے احمدار کی اپیل کو نا قابل مزاحمت بنا دیا تھا۔عدالت نے ان علماء پر جو اس کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ان کے مذہبی عقائد کے بارے میں کڑی جرح کی۔قریبا ہر ایک مولوی صاحب سے دریافت کیا گیا کہ وہ نا قابل تخفیف فقرات اور اقل ترین الفاظ میں اپنے وہ عقائد بیان کرے سجود ایک شخص کومسلمان بنانے کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔اس سوال کے جتنے بھی جواب دیئے گئے اُن میں سے قریبا ہر ایک جواب دوسرے جوابوں سے مختلف تھا۔جماعت اسلامی کے نمائندے نے تو بہ کہا۔کہ مجھے اس سوال کا جواب دینے کے لیے قبل انہ وقت نوٹس دیا جانا چاہیئے تھا علماء کے ان جوابوں کا اختلاف قابل افسوس ہے۔کیونکہ یہ سوال بھار مذہب کی اصل بنیاد سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن باوجود اپنے نا قابل اتفاق فرقہ وارانہ اختلافات کے علماء اس قابل ہو گئے تھے کہ وہ احمدیوں کے خلاف ایک متحدہ محاذ بروئے کار لا سکیں۔اور یہ بات ہماری گرمی توجہ کو اس طرف مبذول کراتی ہے۔کہ احمدیوں کے خصوصی عزائم اور مشاغل خود ملی اعتراض تھے۔جنہوں نے یہ صورت حال پیدا کی۔مسئلہ جہاد ارتداد اور اسلام میں ایک غیر مسلم کا درجہ وغیرہ اس قسم کے سوالات کے جوابات کو قرآن شریعت کے سادہ ترین احکامات کی روشنی میں مطالعہ کرنا ہوگا۔اور نیز یہ بھی دیکھنا ہوگا۔کہ پاکستانی مملکت کی آئینی ذمہ داریوں پر اُن کا کیا اثر پڑتا ہے۔حکومت - قانون سازی۔ترجمانی وغیرہ کے تصورات اور ان کی تشریح و توضیح ایک سیاسی مکتب فکر کی دوبارہ تعمیر کے لیے کافی خوش کن دعوت ثابت ہوگی۔تحقیقاتی عدالت کا یہ حصہ مقامی یا تقلیل العمر دلچسپی کا موجب نہیں ہے۔عدالت نے زور دیا ہے کہ اسلام کی جرات مندانہ تجدید کی جائے تاکہ ہم اس با جمال مذہب کو تمام فرسودہ اور بے معنی لغویات سے پاک کر سکیں۔اور اس کی قوت، حیات کو ایک عالمگیر مثالی تخیل کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔