تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 472
۴۷۰ اسلامی مملکت میں ارتداد کی سزا موت ہے اس پر علماء عملاً متفق الرائے ہیں (ملاحظہ ہو مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری صدر جمعیت العلمائے پاکستان پنجاب - مولانا احمد علی صدر جمعیت العلماء اسلام مغربی پاکستان۔مولانا ابو الاعلیٰ مودودی بانی و سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان مفتی محداد الیس جامعہ اشرفیہ لاہور در کن جمیعتہ العلماء پاکستان مولانا داؤد غزنوی صدر جمعیت اہل حدیث مغربی پاکستان مولانا عبد الحکیم قاسمی جمعیت العلماء اسلام پنجاب۔اور مسٹر ابراہیم علی چشتی کی شہادتیں) اس عقیدے کے مطابق چوہدری ظفر اللہ خان نے اگر اپنے موجودہ مذہبی عقائد ورثے میں حاصل نہیں کیسے بلکہ وہ خود اپنی رضا مندی سے احمدی ہوئے تھے۔تو ان کو بلاک کر دینا چا ہیئے۔اور اگر مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری یا رضا احمد خاں بریلوی یا اُن بے شمار علماء میں سے کوئی صاحب جو رفتو می د ۱۴ EX DE) کے خوبصورت درخت کے ہر پتے پر مرقوم دکھائے گئے ہیں) ایسی اسلامی مملکت کے رئیں بن جائیں۔تو یہی انجام دیو بندیوں اور وہابیوں کا ہوگا۔جن میں مولانا محمد شفیع دیوبندی ممبر بورڈ تعلیمات اسلامی ملحقہ دستور سانہ اسمبلی پاکستان اور مولانا واط و غزنوی بھی شامل ہیں۔اور اگر مولانامحمد شفیع دیو بندی رئیس مملکت مقرر ہو جائیں تو وہ ان لوگوں کو جنہوں نے دیو بندیوں کو کافر قرار دیا ہے۔دائرہ اسلام سے خارج قرار دیں گے اور اگر وہ لوگ مرتد کی تعریف میں آئیں گے یعنی انہوں نے اپنے مذہبی عقائدہ ورثہ میں حاصل نہ کیسے ہوں گے ، بلکہ خود اپنا عقیدہ بدل لیا ہو گا۔تو مفتی صاحب ان کو موت کی سزا دے دیں گے۔جب دیو بندیوں کا ایک فتویٰ (13) EX۔DE) عبس میں اثنا عشری شیعوں کو کافر و مرتد قرار دیا گیا ہے۔عدالت میں پیش ہوا تو کہا گیا کہ یہ اصل نہیں۔بلکہ مصنوعی ہے لیکن جب مفتی محمد شفیع نے اس امر کے متعلق دیو بند سے استفسار کیا تو اس دار العلوم کے دفتر سے اس فتوی کی ایک نقل موصول ہو گئی۔جس پہ وارالعلوم کے تمام اساتذہ کے دستخط ثبت تھے۔اور ان میں مفتی محمد شفیع صاحب کے دستخط بھی شامل تھے۔اس فتوے میں لکھا ہے۔کہ جو لوگ حضرت صدیق اکبر کی صاحبیت پر ایمان نہیں رکھتے۔جو لوگ حضرت عائشہ صدیقہ کے قاذف ہیں اور جو لوگ قرآن میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں دہ کافر ہیں۔اس تمام بحث کا آخر می نتیجہ یہ ہے۔کہ شیعہ سنتی - دیوبندی۔اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں