تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 473
سے کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر سمجھتی ہے تو جہاں کوئی شخص ایک عقیدے کو بدل کر دوسرا اختیار کرے گا اس کو اسلامی مملکت میں لاز ماموت کی سزا دی جائے گی اور جب یہ حقیقت مد نظر رکھی جائے کہ ہمارے سامنے مسلم کی تعریف کے معاملے میں کوئی دو عالم بھی متفق الرائے نہیں ہو سکے تو اس عقیدے کے نتایج کا قیاس کرنے کے لیے کسی خاص قوت متخیلہ کی ضرورت نہیں۔اگر علماء کی پیش کی ہوئی تعریفوں میں سے ہر تعریف کو معتبر سمجھا جائے۔پھر انہیں تحلیل و تحویل کے قاعدے کے ماتحت لایا جائے اور نمونے کے طور پر الزام کی وہ شکل اختیار کی جائے جو گلیلیو کے خلاف انکو یڈیشن کے فیصلے میں اختیار کی گئی متقی تو ان وجوہ کی تعداد بے شمار ہو جائے گی جن کی بناء پر کسی شخص کا ارتداد ثابت کیا جا سکے، لے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ نے احمدیت اور پاکستان علماء کے تبصرے اور ان کا جواب کے مخالف فر میں لیڈروں کی کاروائیوں کو جس طرح طشت از بام کیا اُس نے اُن کے حامیوں میں صف ماتم بچھا دی اور ان کی طرف سے محاسبہ اور تبصرہ کے نام سے دو کتابیں شائع کین مین میں نام نہاد علماء کی شکست اور بے آبروٹی پر پردہ ڈالنے اور مظلوم احمدیوں کو ملزم گرداننے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر ایک نظر کے نام سے اپریل ۱۹۵۵ء میں ایک مبسوط کتاب شائع کی جس میں نہ صرف یہ التزام فرمایا کہ ہر معاملہ میں تحقیقاتی عدالت کی رائے بلا کم و کاست در ج کہ دی جائے بلکہ مولفین تبصرہ کی مغالطہ انگیزیوں کا پردہ چاک کر دیا جائے۔سے رپورٹ تحقیقاتی عدالت (اردو) ص ۲۳۱ تا ۲۳۷ شه - (1) " تبصره از نعیم صدیقی صاحب د سعید احمد ملک صاحب لز با شهر مرکزی مکتبہ جاعت اسلامی پاکستان) (۲) محاسبه از مولانا مرتضی احمد صاحب میکش -