تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 471
۴۶۹ پر ایمان کا محض اقرار ہی کرتا ہو۔گوان پر عمل کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔تو یہ اس کے مسلمان ہونے کے لیے کافی ہے۔حقیقی مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ کے تمام احکام پر عین اس طرح ایمان رکھتا ہو۔اور عمل کرتا ہو۔جس طرح وہ احکام و ہدایات اس پر عائد کیے گئے ہیں۔سوال :۔کیا آپ یہ کہیں گے کہ صرف حقیقی مسلمان ہی مرد صالح ہے ہے جواب : جی ہاں۔سوال :۔اگر ہم آپ کے ارشاد سے یہ مجھیں کہ آپ کے نز دیک سیاسی مسلمان کہلانے کے لیے صرت عقیدہ کافی ہے۔اور حقیقی مسلمان بننے کے لیے عقیدے کے علاوہ عمل بھی ضروری ہے۔ہے۔تو کیا آپ کے نزدیک ہم نے آپ کا مفہوم صحیح طور سے سمجھا ہے ؟ جواب: - جیا نہیں آپ میرا مطلب مجھے طور پر نہیں سمجھے۔سیاسی مسلمان کے معاملہ میں بھی عمل ضروری ہے۔میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان عقائد کے مطابق عمل نہیں کرتا۔جو ایک سیاسی مسلمان کے لیے ضروری ہیں۔تو وہ سیاسی مسلمانوں کے دائرے سے خارج ہو جائے گا۔سوال : - اگر کوئی سیاسی مسلمان ان باتوں پر ایمان نہ رکھتا ہو۔جن کو آپ نے مزوری بتایا ہے تو کیا آپ اس شخص کو بے دین، کہیں گے ؟ جواب: جی نہیں میں اسے محض " بے عمل کہوں گا۔صدر انجن احد بہ ربوہ کی طرف سے جو تحریری بیان پیش کیا گیا۔اس میں سلم کی تعریف یہ کی گئی کہ مسلم در شخص ہے جو رسول پاک صلعم کی امت سے تعلق رکھتا ہے۔اور کلمہ طیبہ پر ایمان کا اقرار کرتا ہے۔ان مستعد و تعریفوں کو جو علماء نے پیش کی ہیں۔پیش نظر رکھ کر کہا ہماری طرف سے کسی تبصرے کی ضرورت ہے ؟ بجز اس کے کہ دین کے کوئی ور عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں۔اگر ہم اپنی طرف سے مسلم" کی کوئی تعریف کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے۔اور وہ تعریف ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسرں • نے پیش کی ہیں۔تو ہم کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی تعریف کو اختیار کر لیں۔تو ہم اُس عالم کے نز دیک تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسرے تمام علماء کی تعریف کی رو سے کافر ہو جائیں گے یہ