تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 38 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 38

محمد حسین کو یہ سمجھ کر قتل کر دیا کہ وہ احمد ی ہے۔تفتیش سے معلوم ہوا کہ متوفی کے ایک شیمن نے اس کو قتل کرانے کے لیے چال چلی تھی۔در مارچ کو مقامی ایم ایل اسے مسجد شیرانوالہ باغ میں طلب کیے گئے اور ان سے درخواست کی گئی کہ لاہور جا کر ہدایات لائیں۔یہ ایم ایل اے چیف منسٹر صاحب سے ملے لیکن کوئی قطعی ہدایات نہ لائے۔گوجر انوالہ میں فوج کی ایک کمپنی د مارچ کو۔دو بٹالین 4 مارچ کو اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کنٹیلری کے دورریز رد دستوں کو لے کر ۸ مارچ کو پہنچ گئے۔جب فوج آئی تو ان نعروں سے ان کا خیر مقدم کیا گیا " پاکستانی فوج نے سیالکوٹ میں گولی چلانے سے انکار کر دیا۔زندہ باد پاکستانی فوج زندہ با د شورش پسند ہر جگہ یہ اعلان کر یہ ہے تھے کہ وہ کفر کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں۔اور کئی مقامات پر ایسے پوسٹر لگائے گئے جن میں پولیس اور فوج سے اپیل کی گئی تھی کہ گولی نہ چلائیں۔بلکہ جہاد میں شامل ہو جائیں۔ضلع میں کوئی ایک درجن احمدیوں کو مجبور کر دیا گیا کہ اپنے عقیدے سے توبہ کر لیں یات احمدیوں کے بیانات را جناب میر محمد بخش صاحب ایڈووکیٹ لامیر جماعت احمدیہ گوجر انوالہ تحریر فرماتے ہیں :- شہر گوجرانوالہ میں بھی ایس کا نفرنسیں جن کے نتیجہ میں محلہ دار اجلاس کیسے گئے جن میں پاس کیا گیا کہ احمدیوں کا اقتصادی بائیکاٹ کیا جارے اور ان کو اپنے مرد سے عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنے دیئے جائیں۔۔۔۔جس کے نتیجہ میں بازار میں دوکانوں پر دو قسم کے بورڈ احرار نے لگوائے جن میں یہ تحریر ہوتا تھا کہ منہ " مرزائیوں کا مکمل بائیکاٹ کرو۔مرزائیوں کے برتن علیحدہ ہیں “ علاوہ اس کے بعض بعض احمد یوں کی دکانات کے بورڈ پر بھی احرار نے لکھوا دیا کہ یہ دکان مرزائی کی ہے اور ان کے سامنے پکٹنگ لگوائی گئی کہ کوئی غیر احمدی اُن سے سودا نہ خریدے اور اگر کوئی خرید تا رپورٹ تحقیقاتی عدالت مل۱۸ - ۱۸۳ به وفات ۱۴ فروری ۶۱۹۷۷