تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 463 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 463

مختلف سلوک کیا جائے۔تو گیا علماء کو اس امر پہ اعتراض ہو گا ؟ مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری صدر جمعیۃ العلماء پاکستان نے یہ جواب دیا کہ ہندووں کو جو ندوستان میں اکثریت رکھتے ہیں۔ہندو دھرم کے ماتحت مملکت قائم کرنے کا حق ہے اور اگر اس نظام حکومت میں منو شاستر کے ماتحت مسلمانوں سے ملیچھوں یا شودروں کا سا سلوک کریں تو ان پر مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔اسی طرح مولانا مودودی صاحب نے کہا :- یقینا مجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہو گا کہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں کا سا سلوک کیا جائے ان پر منو کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں حکومت میں حصہ اور شہریت کے حقوق قطعاً نہ دیئے جائیں لے میاں طفیل محمد قسیم جماعت اسلامی کے متعلق رپورٹ کہتی ہے کہ :۔اس گواہ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے۔کہ اگر کوئی غیر مسلم حکومت اپنے ملک کی سرکاری فازمتوں میں مسلمانوں کو آسامیاں پیش بھی کر رہے۔تو ان کا فرض ہو گا کہ ان کو قبول کرنے سے انکار کردین" ہے غازی سراج الدین صاحب میر نے جب یہ جواب دیا کہ ہمسایہ ملک اپنے سیاسی نظام کو اپنے مذہب پر مبنی قرار دے سکتا ہے۔تو عدالت نے اس سے سوال کیا۔سوال : کیا آپ کا تیق تسلیم کرتے ہیں۔کہ وہ تمام مسلمانان ہند کو شور اور میچ قرار د سے دیں اور انہیں کسی قسم کا شہری حق نہ دیں۔جواب :۔ہم انتہائی کوشش کریں گے۔کہ ایسی حرکت سے پہلے ہی اُن کی سیاسی حاکمیت ختم کر دی جائے۔ہم مہندوستان کے مقابلے میں بہت طاقتور ہیں۔ہم ضرور اتنے مضبوط ہوں گے کہ ہندوستان کو ایسا کرنے سے روک دیں " سبب غازی صاحب نے عدالت کے سوال پر یہ جواب دیا کہ تبلیغ اسلامی مذہبی فرائٹن میں سے ہے اور مسلمانان ہند کا بھی فرمن ہے کہ علی الاعلان اپنے مذہب کی تبلیغ کریں۔اور ان کو اس کا حق حاصل لہ رپورٹ تحقیقاتی عدالت م۲۲۵ : ۲ رپورٹ تحقیقاتی عدالت مت ۲۴