تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 461
۴۵۹ قرآن کی دوسری سورۃ کی تو نوای آیت میں بجز دی سا اشارہ کیا گیا ہے۔اس نتیجے کا اطلاق اسلام سے ارتداد پر نہیں ہو سکتا۔اور چونکہ قرآن مجید میں استعداد پر سزائے موت کی کوئی واضح آیت موجود نہیں اس لیے کتابچے کے مصنف کی رائے بالکل غلط ہے بلکہ اس کے برعکس ایک تو سورہ کافرون کی چھت مختصر آیات میں اور دوسری سورۃ کی آیت لا اکراہ کی تہہ میں جو معلوم ہے اس سے دوہ نظر یہ بالکل غلط ثابت ہوتا ہے جو انتخاب میں قائم کیا گیا ہے۔نیز لکھا:۔سورہ کا فردن صرف تین الفاظ پر مشتمل ہے۔اس کی کوئی آیت چھے الفاظ سے زیادہ کی نہیں۔اس سورت میں وہ بنیادی خصوصیت واضح کی گئی ہے جو کہ دار انسانی میں ابتدائے آفرنیش سے موجود ہے۔اور "لا اکراہ “ والی آیت میں جس کا متعلقہ صرف کو الفاظ پر شتل ہے ذہن انسانی کی ذمہ داری کا قاعدہ ایسی صحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اس سے بہتر صحت ممکن نہیں۔یہ دونوں متن جو الہام الہی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتے ہیں، انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے اس اصول کی بنیاد واساس ہیں جس کو معاشرہ انسانی نے صدیوں کی جنگ و پیکار اور نفرت و خونریزی کے بعد اختیار کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ یہ انسان کے اہم ترین بنیادی حقوق میں سے ہے لیکن ہمارے علمار محققین اسلام کو جنگجوئی سے کبھی الگ نہیں کریں گے یا سلہ مخالف علما ء چونکہ یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کے حقوق اور علماء احمدیوں کو اقلیت قرار دے کر چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو وزارت خارجہ سے اور دوسرے احمدیوں کو کلیدی عہدوں سے بنایا جائے اس لیے فاضل عدالت کے سامنے یہ اہم نکتہ بھی زیر غور آیا کہ اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو کیا حیثیت حاصل ہوگی ؟ آیا انہیں دہی حقوق شہریت حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو ہوں گے ؟ اور انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ ے دو رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحه ۲۳۷ / ۲۳۸