تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 460
فکر کا علمبر دار ہے اور اس میں محض ارتداد کی سزا ہرگزہ قتل نہیں۔عدالت میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آیا اور مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی دیوبندی کے رسالہ " اشتہاب کو بڑی اہمیت دی گئی جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے۔فاضل ججوں نے جماعت احمدیہ کے نظریہ کی پر نور تائید کرتے ہوئے لکھا :۔بر ارتداد کے لیے سزائے موت بہت دُور رس متعلقات کی حامل ہے۔اور اس سے اسلام مذہبی جنونیوں کا دین ظاہر ہوتا ہے جس میں حریت فکر مستوجب سزا ہے۔قرآن تو بار بار عقل و فکر پر زور دیتا ہے۔رواداری کی تلقین کرتا ہے اور مذہبی امور میں جبر و اکراہ کے خلاف تعلیم دیتا ہے لیکن ارتداد کے متعلق جو عقیدہ اس کتابچے میں پیش کیا گیا ہے۔وہ آزادی فکر کی جڑ پر ضرب لگا رہا ہے۔کیونکہ اس میں یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ جو شخص پیدائشی مسلمان ہو یا خود اسلام قبول کر چکا ہو وہ اگر اس خیال سے مذہب کے موضوع پر فکر کرے کہ تجود مذہب اسے پسند آئے اس کو اختیار کرے تو وہ سزائے موت کا مستوجب ہوگا۔اس اعتبار سے اسلام کامل ذہنی فالج کا پیکر بن جاتا ہے۔اور اگر اس کی سیہ کا یہ بیان مسیح ہے کہ عرب کے وسیع رقبے بار ہا انسانی خون سے رنگین ہوئے تھے تو اس سے یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ عین اس زمانے میں بھی جب اسلام عظمت و شوکت کے نقطہ عروج پر تھا اور پورا عرب اس کے زیر نگیں تھا اس ملک میں بے شمار ایسے لوگ موجود تھے جو اس مذہب سے منحرف ہو گئے تھے اور انہوں نے اس کے نظام کے ماتحت رہنے پر موت کو ترجیح دی مفتی کا ہے ورزی داخل کیا جنہوں نے حکومت پنجاب کو اس کتابچہ کی منبعی کا مشورہ دیا تھا اور جو خود بھی دینی امور میں خاص مہارت رکھتے ہیں ذکر کر کے فاضل جج لکھتے ہیں کہ: - انہوں نے مزدور یہ سوچا ہوگا کہ اس کتابچے کے مصنف نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ اس نظیر پر مبنی ہے جو عہد نامہ حقیق کے فرات ۲۶ ۲۷ ۲۸ میں مذکور ہے اور میں کے متعلق رپورٹ تحقیقاتی عدالت، ص۲۳۷