تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 459
۴۵۷ بہت سے یہ مکروہ پراپیگنڈا بھی کیا جارہا تھا کہ معاذ اللہ احمد می جہاد اسلامی کے منکر ہیں۔اور یہ کہ بانی جماعت احمدیہ نے اس عباد کو جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور اسلام کی روح رواں ہے منسوخ کر دیا ہے۔فاضل جج صاحبان نے اس بارے میں بالوضاحت لکھا کہ :۔جہاں تک عقیدہ جھاد کا تعلق ہے احمدیوں کا خیال یہ ہے کہ میں جہاد کو جہاد بالسیف کہتے ہیں وہ صرف اپنے دفاع میں جائز ہے اور مرزا غلام احمد (صاحب) نے اس مسئلہ پر اپنا خیال پیش کرتے ہوئے محض ایک عقیدہ مرتب کر لیا ہے جو قرآن مجید ہی کی متعدد آیات پر مبنی اور براہ راست اسی سے ماخوذ ہے (فاضل ججوں نے وہ آیات بھی اس سے قبل نقل کر دیں۔ناقل ) اور مرزا صاحب قرآن مجید کے کسی قاعدے یا کسی درایت کو منسوخ وموقوف کرنے کے مدعی نہیں ہیں راسل غیر احمدی علما ءکے عدالت میں جہاد کے متعلق حضرت بانی جماعت احمدیہ کے بعض اقوال و اقتباسات پیش کیے تھے۔فاضل ججوں نے ان کا ذکر کر کے لکھا: - د احمدیوں کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ جو الفاظ و تصریحات استعمال کی گئی ہمیں اُن میں تنسیخ کا مفہوم نہیں بلکہ قرآن مجید کے ایک عقیدے کی تعبیر و توجیہ ہے جو صدیوں سے غلط فہمی کا شکار بنارہا ہے اور بہر کیف ان الفاظ کی تعمیر دوسرے لوگ کچھ بھی کریں احمدیوں نے اس کا مطلب ہمیشہ یہی سمجھا ہے کہ ان میں کوئی نیا عقیدہ رائج نہیں کیا گیا۔بلکہ اسی اصلی اور ابتدائی عقیدے کا اعادہ ہے جو قرآن مجید میں موجود ہے اور مرزا غلام احمد (صاحب) نے صرف پرانے عقیدے کی پاکیزگی کو میل کچیل سے پاک کر دیا۔جماعت احمدیہ نے اس سلسلہ میں بضع الحرب ، کی حدیث بھی پیش کی ہے اور کہا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی تحریرات میں کسی قانون کو منسوخ نہیں کیا۔بلکہ اس حدیث کے مطابق صرف قتال کو معطل کر دیا ہے۔یہ نکتہ بے حد اہم ہے کہ جماعت احمدیہ اپنے قیام کے آغازہ ہی سے یہ عقیدہ پیش کرتی آرہی ہے کہ اسلام آزادی مله ره پورت تحقیقاتی عدالت می ۲۰۵ : ۲ د رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ نمبر ۲۰۶ -