تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 449
ہو گئے۔اور ہوئے بھی حکومت پنجاب کے ذریعے جس نے سرکاری سطح پر آٹھ ماہ تک فسادات پنجاب کی تحقیقات پر لاکھوں روپیہ اپنے بجٹ سے صرف کیا اور پھر فاضل جج صاحبان کی مستند ہ پورٹ کے اردو اور انگریزی ایڈیشن زر کثیر سے چھپوا کر ملک بھر میں شائع کیے۔یہ رپورٹ در حقیقت ۹۵۳لہ کے فسادات کی مفصل تاریخ ہے۔جس یہ اُس دور کے پاکستانی پریس نے فاضل ججوں کو نہ بر دست خراج تحسین ادا کیا۔ملک کے صحافیوں اور دانشور وں نے بالاتفاق اس کو ایک تاریخی دستاد یہ تسلیم کیا ہے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ جماعت احمدیہ کی مظلومیت اور اس کے خلاف الزامات کی بریت سے بریز ہے مثلاً فاضل میچوں نے احمدیوں کے خلاف صوبائی حکومت کے افسوسناک طرز عمل کا نقشہ کھینچتے ہوئے اپنی رائے حسب ذیل الفاظ میں دی : - دو احراریوں سے تو ایسا بہ تار کیا گیا گویا وہ خاندان کے افراد ہیں اور احمدیوں کو اجنبی سمجھا گیا۔احراریوں کا رویہ اُس بچے کا سا تھا جس کو اس کا باپ کسی اجنبی کو پیٹنے پر مزا کی دھمکی دیتا ہے اور وہ بچہ یہ جان کر کہ اُسے مزا نہ دی جائے گی اجنبی کو پھر پیٹنے لگتا ہے۔اس کے بعد چونکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اس لیے باپ محض پریشان ہو کر بیٹے کو مارتا ہے لیکن نرمی سے تا کہ اُسے چوٹ نہ لگے۔اس ایک افواہ اور اس کی تردید فاضل جوں نے ان چالوں کابھی ذکر کی ہے جو شورش پسندوں نے حکام کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے اختیار کر رکھی تھیں مثلاً ایک یہ چال بیان کی کہ : - مدیہ افواہ پھیلائی گئی کہ احمدی موٹر کاروں میں سوار ہو کر اندھا دھند لوگوں پر گولیاں چلا رہے ہیں کا لہ نوائے وقت لاہور (۲۳ - ۲۵ را پر پل ۱۹۵۴ء) لمنت الامور (۲۵-۲۹ اپریل ۱۹۵۲ء) رساله کامود لاہور ۲۶ را بپریل ۶۱۹۵۴) زمیندار سدھار ملتان ریم مئی ۱۹۵۴ء) رساله اقدام لاہور ( ۱۹ مئی ۱۹۵۴ء) تفصیل کے لیے طاخطہ ہو کتاب "Chief Justice Mohammed Munir" ۲۲ تا ح ۲۳۵ شه رپورٹ تحقیقاتی عدالت اردو ص۲۲۲