تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 442 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 442

۴۳۰ سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ بالکل غلط ہے اس کے برعکس مسلمانوں کے بعض فرقے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے رہے ہیں۔مسٹر خادم نے کہا کہ جماعت اسلامی اور مولانا موروپی نے جن کا موقف یہ تھا کہ احمدیوں کے بارے میں مطالبات پر تمام علماء متفق تھے۔احمدیوں کے نظر بیٹے کی نقل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن فرق صرفت یہ تھا کہ جماعت اسلامی تشدد کے ذریعے سیاسی اقتدار حاصل کرنے میں یقین رکھتی تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانوں کو اتنا عزیز بتا کہ وہ اس کی تشریح کے اختلاف تک برداشت نہیں کر سکتے تھے تو اس سلسلہ میں گزشتہ کئی صدیوں سے بعض مشہور مسلمان علماء کا اختلاف کیوں برداشت کیا جاتا رھا تھا ؟ وکیل نے کہا کہ مسلمانوں کا ہر فرقہ کسی نہ کسی اصول پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتا ہے لیکن انہیں اقلیت قرار دینا کبھی خیال نہیں کیا گیا تھا۔یہاں تک گر گزشتہ ستر برس سے احمدیوں کو بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھا جاتا رہا تھا انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی تعجب خیز ہے کہ یکدم یہ کہا جانے لگا کہ احمدیوں کو بالکل ہی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔صدر انجمن احمد یہ ربوہ کے وکیل نے یہ بتانے کے لیے کہ مرزا غلام احمد صاحب کی وفات پر انہیں شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا ، بعض مسلم اخبارات پڑھ کر سنانے کالے ت تحقیقاتی عدالت میں جن اصحاب نے بیانات دیئے بیانا) تحقیقاتی عدالت میں بعض دوسرے بیا نا امنی ایمانی در کیا کام سرکاری د غیر سرکاری وکلاء صحافی ، علماء سیاسی لیڈر اور عوام غرضیکہ ملک کے ہر طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ان بیانات کا ایک حصہ جہاں عدالت اور ملک کے سامنے بہت سی نئی معلومات داکتشافات کا موجب بنا وہاں بعض بیانات سے کئی اہم اور دلچسپ امور بھی منظر عام پر آئے۔مثلاً :- ه روز نامه ملت لاہور مورخہ یکم مارچ ۱۹۵۲، ص۹