تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 436 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 436

۴۳۴ یقین ہے کہ عام لوگ دلائل کے ساتھ قائل کیے جاسکتے تھے اور انہیں ان افسوسناک واقعات کا ذمہ دار فرار نہیں دیا جا سکتا جن کا منتہی لاہور میں مارشل لاء کا نفاذ تھا۔در اصل عوام کے مذہبی شعور کے محافظ ہونے کے دعویداروں نے اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے اس تحریک کو ہوا دی جس کی وجہ سے جان و مال کا نقصان ہوا پس احمدیوں پہ الزام لگا اور اصل اپنے احساس گناہ کو معقول بنانے کی کوشش کے مترادف ہے۔آپ نے فرمایا احمدی جماعت کے ہر رکن کی تن من دھن سے یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ پوری دنیا کو اپنے مذہبی نظریات پر لے آئے۔احمدی پہنتے اسلام کو پیش کرتے ہیں اور قرآن مجید نے ہر مومن کو حکم دیا ہے کہ وہ اس حق و صداقت کا مشعل بردار بن جائے جس کی تبلیغ حضرت رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اور جسے آنحضرت ہی نے دنیا میں پھیلایا تھا۔اس مقصد کا حصول روحانی فتح کے سوا کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ کا اصل مقصد عیسائیوں کو مشرف بہ اسلام کرنا ہے یہ تحریک احمدیت کے علم کلام کی حقانیت ثابت کرنے اور اعتراضات کے جوابات کی حقیقت واضح کرنے کا فریضہ ملک عبدالرحمن صاحب خادم کے سپر د تھا جسے انہوں نے نہایت عمدگی اور پیر شوکت اور پر ار رنگ میں ادا کیا۔یہ خالی احمدیت کا بیان اپنے اندر اس درجہ گہر ی تحقیق اور غیر معولی تخلص کا رنگ لیے ہوئے تھا کہ فاضل جج صاحبان کی قابلیت اور لیاقت پر عش عش کر اُٹھے اور اپنی رپورٹ میں آپ کا نام ہے کہ آپ کا شکریہ ادا کیا بلکہ آپ کی نسبت لکھا کہ آپ نے کتب قدیمیہ کی تلاش و تنجس میں بڑی محنت کی ہے۔ہیں: خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمس آپ کی خدمات جلیلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ر تحقیقائی عدالت کے سلسلہ میں بھی انہوں نے ہمارے ساتھ چھ سات ماہ کام کیا۔روزانہ گرات سے لاہور آیا گئے اور آخری بحث میں بھی حصہ لیا۔بحث کے لیے تحقیقاتی عدالت نے دوسروں کی نسبت سے ہمیں تھوڑا وقت دیا تھا۔لیکن خادم صاحب مرحوم نے تھوڑے سے وقت میں نہایت نه اخبار دست لاہور ۲۴ ۲۵ ۲۶ فروری ۶۱۹۵۴ سے رپورٹ تحقیقاتی عدالت اردو صفحه ، د ۲۱ -