تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 34
۳۴ نکلنے کی کوشش کی کہ اتنے میں مسلح پولیس بھی آگئی جس کا ذکر اوپر کر چکا ہوں اور انہوں نے ان کو اشارہ کر کے بٹھا دیا۔جب ہمیں شام کے قریب پتہ لگا کہ یت احمد یہ لوگ لگا دی گئی ہے اور تبلوس اب اس طرف آنے والا ہے تو میں نے اپنے بچوں (قامتی کبیر احمد۔قاضی حمید احمد) سے کہا کہ ٹائپ مشینیں کالج سے نکال کر اندر رکھ لیں۔کیا پتہ وہ سچ مچ ہی نقصان کر دیں مگر دل میں ایک قسم کا اطمینان بھی تھا گو سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہم دیکھ رہے تھے بغیر احد بوجہ سخت بیمار ہونے کے چلنے پھرنے سے بھی ان دنوں معذور تھا۔پہلے ہم نے ضروری سامان اور ٹرنک وغیرہ اوپر کی منزل میں رکھ لئے مگر پھر خیال آیا کہ ساتھ ہی اور پیچھے بھی مخالفین کے مکانات ہیں۔کہیں اوپر سے دشمن کو راستہ نہ دے دیں۔پھر سارا سامان وغیرہ نیچے کمرے ہی میں کے گئے اور قامتی نصیر احمد صاحب کو بڑی مشکل سے نیچے لے آئے لیکن سبب جلوس آہی پہنچا تو پھر جلدی سے قاضی نصیر احمد کو اوپر بڑی مشکل سے پہنچایا اور سب عورتوں اور بچوں کو بھی اس ہنگامہ میں بلوائیوں نے راولپنڈی کی بعض اور بھی احمدی وکانوں کو لوٹا مثلاً وہلی کریانہ ہاؤس، احمدیہ کریانہ سٹور، کشمیر ہوٹل گنج منڈی وغیرہ۔ایک معزز غیر احمدی نوجوان خواجہ غلام نبی ما نیب کو کار انور ر آزاد کشمیر حکومت کے پہلے صدر) کا تحریری بیان ہے کہ : کا درد ناک قتل یوں تو کئی مہینوں سے روزانہ احرار کی طرف سے ہمارے محلہ میں احمدیوں کے خلاف جلسے ہوتے رہے اور جلوس ہمارے مکان کے سامنے سے گزر تے ہوئے ہمارے خلاف " مرزائی مردہ باد کے نعرے لگاتے تھے۔۲ مارچ ۹۵ کو راولپنڈی میں جیس احرار کے پروگرام کے ماتحت تمام شہر میں احمدیوں کے خلاف جلوس نکالے گئے۔بیت احمد یہ راولپنڈی کو آگ لگا دی گئی۔اور اسی روز ہمارے مکان واقع مومن پورہ راولپنڈی پر دوبارہ حملہ کیا گیا۔پہلی بار مکان کے دروازوں اور ڈھیر کیوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی جس پر محلہ میں ہمارے قریبی ہمسایوں نے یہ کہ کر انہیں باز رکھا کہ ان کا مکان جلنے کے ساتھ سارا محلہ جل جائے گا جس پر وہ چلے گئے۔مگر تھوڑی دیر کے بعد پھر ہجوم آیا اور در دازے توڑنے لگا۔اس کا ایک حصہ چھت کے راستہ اندر گھس له وفات ۱۷ر جولائی ۶۱۹۷۳