تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 424
سوال:- خواجہ ناظم الدین نے عدالت میں اپنی گواہی میں حسب ذیل الفاظ کہے ہے مجھے قطعی طور پر یاد ہے کہ ان سے ایک تبادلۂ خیال کے دوران میں چو ہدری ظفراللہ خان نے مجھ سے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ان کے عقیدے کے مطابق میں کافر ہوں لیکن سیاسی معاشرتی اور دوسرے مقاصد کے پیش نظر وہ مجھے مسلمان سمجھ سکتے ہیں یا کیا آپ نے یہ کہا تھا ؟ جواب :۔عقید سے سے متعلق پوزیشن کی تشریح سے ممکن ہے انہوں نے بہ نتیجہ اخذ کیا ہو۔عدالت نے گواہ سے کہا کہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جیکب آباد کی ایک مسجد کے خطیب مولوی محو اسحق سے اگست ماہ میں ایک گفتگو کے دوران میں انہوں (گواہ) نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ انہیں (گواہ کو ایک کافر حکومت کا ایک مسلمان طازم یا ایک مسلمان حکومت کا ایک کا فر ملازم سمجھا جا سکتا ہے۔یه دریافت کرنے پر کہ یہ بیان کیا درست ہے ؟ چو ہدری ظفر اللہ خاں نے کہا کہ مجھے اس پر بہت زیادہ شک ہے سوال: - کیا خواجہ نذیر احمد نے آپ سے مارچ 1923 میں ملاقات کی مفتی یا جواب :۔ممکن ہے انہوں نے ملاقات کی ہو۔سوال : کیا تینوں مطالبات کے متعلق فرقے کے امیر کی پوزیشن کی تشریح کے سلسلہ میں آپ د دنوں میں گفتگو ہوئی تھی ؟ جواب:۔انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ بعض تشریحات کے متعلق فرقے کے امیر سے ملاقات کی معنی یا ان کا ملاقات کرنے کا ارادہ تھا۔گوراہ نے کہا کہ انہوں نے بعض تشریحات تجویز کی تھیں اور میری رائے دریافت کی تھی۔میں نے ان سے کہا کہ میں اپنی رائے ظاہر نہیں کر سکتا اس لیے انہیں اس معاملہ پر فرقے کے امیر سے گفتگو کرنی چاہیے۔سوال :- فرقے کے سلسلے میں آپ کی پوزیشن کیا ہے ؟ خواجہ نذیر احمد آپ سے ملنے کیوں گئے تھے ؟ جواب:۔میں ایک معمولی رکن ہوں اور فرقے میں میری کوئی خاص پوزیشن نہیں ہے۔مجھے معلوم