تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 422 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 422

۴۲۰ کے سامنے بعض بنیادی ملکی اور دینی مسائل صحیح صورت میں سامنے آئے۔ذیل میں حضرت چوہدری صاحب کے اس فاضلانہ بیان کے ضروری حصے اخبار" ملت" سے درج کیے جاتے ہیں :۔لاہور - ۱۹ جنوری پاکستان کے وزیر خارجہ چو ہدری ظفراللہ خاں نے فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عادات میں کہا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف پوری تحریک کے دوران میں میں نے اس وقت کے وزیراعظم سے یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی تھی کہ میں ایک لمحہ کا نوٹس ملنے پر بھی استعفے دینے کے لیے تیار ہوں۔مجلس احرار کی جانب سے جرح کے دوران میں چو ہدری ظفر اللہ خاں نے کہا کہ میں نے یہ پیشکش اس لیے کی تھی کہ اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین اگر یہ سمجھیں کہ میں ایک بوجھ ہوں یا کسی اور وجہ سے مجھے مستعفی ہو جانا اور حکومت کو چھوڑ دینا چاہیے تو میں ایک لمحے کے نوٹس پر بھی علیحدہ ہونے کے لیے تیار تھا۔چوہدری ظفر اللہ خان کو جماعت اسلامی نے گواہی کے لیے نامزد کیا تھا انہوں نے کہا کہ متعدد لوگوں نے تحریک کے زمانے میں مجھے یہ رائے دی تھی کہ مجھے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ملک کے باہر سے یہ تجویہ نہیں موصول ہوئی مفتی کہ ہمیں چلا آئیں۔۔۔چودھری محمد ظفر اللہ خاں سے سب سے پہلے جماعت اسلامی کی جانب سے چودھری نذیر احمد خان نے سوالات کیے۔انہوں نے سوال کیا کہ وہ پاکستانی کا بینہ کے علم میں یہ سوال لائے ہیں کہ پاکستان میں ان کے فرقے سے کسی طرح کا سلوک کیا جارہا ہے اور اس سوال کا جواب اگر اثبات میں ہے تو یہ بتلا ہے کہ آپ یہ بات کا بینہ کے علم میں کب لائے تھے چودھری ظفر اللہ خان نے جواب دیا کہ جس وقت تحریک جاری تھی ممکن ہے میں نے اس سوال کے بعض پہلوؤں کا کابینہ میں ذکر کیا ہو۔لیکن میں نے کابینہ سے یہ کبھی نہیں کہا کہ وہ اس پر ایک معینہ معاملہ کی حیثیت سے بحث کر ہے۔سوال :۔کیا آپ کا بلینہ کے کسی اجلاس میں مرحوم لیاقت علی خاں کے علم میں یہ بات لائے تھے کہ آپ کے فرقے سے جس طرح کا سلوک کیا جارہا ہے اس کے خلافت آپ کو بعض شکائتیں ہیں۔؟ جواب :۔مجھے کوئی بات قطعی طور پر یاد نہیں ہے۔