تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 421 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 421

۴۱۹ قادیانیت میں نفع رسانی کے جو جو سر موجود ہیں ان میں اولین اہمیت اس جدوجہد کو حاصل ہے جو اسلام کے نام پر وہ غیر مسلم ممالک میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ لوگ قرآن مجید کو غیرملکی زبانوں میں پیش کرتے ہیں : تثلیث کو باطل ثابت کرتے ہیں۔سید المرسلین کی سیرت طیبہ کو پیش کرتے ہیں۔ان ممالک میں مساجد بنواتے ہیں اور جہاں کہیں ممکن ہور اسلام کو امن اور سلامتی کے مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔غیر مسلم ممالک میں قرآنی تراجم اور اسلامی تبلیغ کا کام صرف اسی اصول " نفع رسائی کی وجہ - قادیانیت کے بقا اور وجود کا باعث ہی نہیں ہے۔ظاہری حیثیت سے بھی اس کی وجہ - قاد یا نبیوں کی ساکھ قائم ہے۔ایک عبرت انگیز واقعہ خود ہمارے سامنے وقوع پذیر ہوا ا میں جب جسٹس منیر انکوائری کورٹ میں علم اور اسلامی مسائل سے دل بہلا رہے تھے اور تمام مسلم جماعتیں قادیانیوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھیں قادیانی میں انہی دنوں ڈچ اور بعض دوسری غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ قرآن کو مکمل کر چکے تھے اور انہوں نے انڈونیشیا کے صدر حکومت کے علاوہ گورنر جنرل پاکستان مسٹر غلام محمد اور جسٹس منیر کی خدمت میں یہ تراجم پیش کئے گو بادہ بزبان حال و قال یہ کہہ رہے تھے کہ ہم ہیں وہ غیر مسلم اور خارج از ملت اسلامیہ جماعت جو اس وقت جبگ بیلی آپ لوگ کافرہ قرار دینے کے لیے پر تول رہے ہیں ، ہم غیر مسلموں کے سامنے قرآن اُن کی مادری زبان میں پیش کر رہے ہیں کاسٹ تحقیقاتی عدالت میں حضرت جویری حضرت چو باری مظفر اللہ خان صاحب کا اہم بیان عمر ظفراللہ خان صاحب کا بیان ۱۹ جنوری ۹۵ کر ہوا جس سے ملک میں جماعت احمدیہ اور آپ کی ذات کی نسبت پھیلائی ہوئی متعدد غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا۔اور نہایت برجستہ اپر حکمت اور قانونی زبان میں پہلی بار عدالت اور عوام سفت روزة الزنا اور فصل با هر مارچ ۱۹۵۷ صفحه ۱ کالم ۱-۲ گورنر جنرل پاکستان کی خدمت میں ولندیزی ترجمہ کا ایک منفہ جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے ، ۱۲ جنوری ۱۹۵۴ء کو پیش کیا تھا وفد کی قیادت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے کی دالمصلح کراچی ۱۳۰ جنوری ۱۹۵۴ ء صلا)