تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 32
ڈیڑھ ہزار روپیہ کا نقصان پہنچایا۔- پنجاب موٹر سٹور (راولپنڈی کا پنجاب موز سٹور بھی چونکہ ایک احمدی بشیر احمد صاحب کا این خواجہ غلام نبی صاحب آف ڈیرہ دون کی ملکیت تھا اس لیے یہ بھی شورش پسندوں کی چیرہ دستی درسفاکی کی نذر ہو گیا۔شیخ حبیب اللہ صاحب کی دکان صرافہ بھی بلوائیوں کے ہتھے چڑھنے سے صرافہ شاپ نہ رہ سکی۔چنانچہ شیخ صاحب کے والد شیخ محمدعبد اللہ صاحب اور میر نے لکھا: د را ولپنڈی میں میرے لڑکے حبیب اللہ کے پاس ایک دکان صرافہ بانہار میں تھی جس میں میرا لیڈ کا صرافی کا کام کیا کرتا تھا۔بھرے بازار میں صرف ایک مختصر سی دکان تو مخالفین کو پہلے ہی کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی مگر تحریک کے ایام میں ان کی مرادیں ہر آئیں۔۵ تاریخ کی رات تھی اور گیارہ بجے کا وقت (جیسا کہ مجھے میرے ایک غیر احمدی عزیز نے بتلایا ہے جو کہ ہماری دکان کے بالکل قریب رہائش رکھتا ہے) کہ مشتعل ہجوم چوک کی طرف سے اشتعال انگیز نعروں کیساتھ آیا۔آناً فاناً ایک دو تین۔زیر دست مہتھوڑوں کی چوٹوں کی آواز سنائی دی۔میرے عزیز کو یقین ہوگیا کہ اب حبیب کی دکان گئی۔دکان کا دروازہ۔۔۔۔۔۔تھوڑے کی چوٹوں سے جلد ہی ٹوٹ گیا۔اندر جاکر ہجوم نے شوکیس اور تصاویر کو تو بری طرح تباہ کیا، اور چاندی کا کچھ نییور جو شو کیس میں تھا اور دکان کی کچھ اشیاء جو کسی کے ہاتھ لگیں اٹھا کر لے گیا۔چند منچلے آدمی سیف کو توڑنے میں لگ گئے۔تو بعض کا خیال بغیر وقت ضائع کیسے دکان کو نذر آتش کرنے کا ہو گیا۔بازار کے پچوکیدار نے اپنی بساط کے مطابق ان کو منع کرنے کی سعی کی مگر جب دیکھا کہ سیف کو توڑنے کے بعد یہ اپنے ارادہ سے باز کم ہی آئیں گے تو فوراً ایک پڑوسی دکاندار کو اس کے گھر پر اطلاع دی۔وہ بھاگا بھاگا آیا اور ان لوگوں کو سمجھایا کہ "مرزائی کو جلاتے جلاتے تم لوگ کئی مسلمانوں کو بھی جلاؤ گے۔یہ آگ سابہ سے بازار کو اپنی پیٹ میں لے لے گی۔اسی اثناء میں بارڈر پولیس پہنچ گئی۔پھر کیا تھا مذہبی دیوانے جدھر کسی کا سینگ سمایا بھاگ دوڑے۔