تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 409
۴۰۷ 1900 دوسری تحریری درخواست مورخه ۱۴۲ جنوری ۱۹۵۳ء جو منجانب حضرت مرزابشیرالدین محمد امام جماعت احمد عدت میں دخل کیانی جناب عالی! میں نے کل جو بیان عصمت انبیاء کے متعلق دیا تھا۔میرے دل میں شک تھا کہ شاید میں پور می طرح اپنے مافی الضمیر کو واضح نہیں کر سکا۔عدالت کے بعد صدر انجمن احمدیہ کے وکلاء سے مشورہ کرنے پر انہوں نے بھی اس رائے کا اظہار کیا۔اس لیے میں آج اس سوال کے متعلق اپنا اور جماعت احمدیہ کا عقیدہ بیان کر کے درخواست کرتا ہوں کہ میرے بیان میں کل کے درج شدہ الفاظ کی جگہ ان الفاظ کو درج کیا جائے۔بانی سلسلہ احمدیہ نے متواتر اور شدت سے اپنی جماعت کو یہ تعلیم دی ہے کہ تمام انبیاء عصوم ہوتے ہیں۔اور صغیرہ اور کبیرہ کسی قسم کا گناہ بھی اُن سے سرزد نہیں ہوتا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیه وسلم بوجہ سردار انبیاء ہونے کے سب نبیوں سے زیادہ معصوم تھے۔اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر دنیا کے آخری انسان تک کوئی شخص آپ کی معصومیت کے مقام کے قریب بھی نہیں پہنچانہ پہنچ سکے گا۔قرآن کریم نے آپ کی معصومیت کے مقام کی بارفع شان بتائی ہے کہ آپ پر نازل شدہ کتاب قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے لا يمسه إلا المُطَرُونَ (پاک لوگوں کے سوا اس کتاب کے مضامین تک کوئی نہیں پہنچ سکتا) یعنی قرآن کریم کے سمجھنے کے لیے بھی ایک درجہ معصومیت کی ضرورت ہے۔پس کیا شان ہو گی اُس ذاتِ والا کی جس کے دل پر ایسی عظیم القدر کتاب نازل ہوئی۔اسی طرح فرماتا ہے کہ آپکو اللہ تعالیٰ نے مبعوث ہیں اسی لیے فرمایا تھا کہ آپ اپنے ساتھ ملنے والوں کو پاک کریں۔چنانچہ فرماتا ہے وَيُزَكِّيهِمْ (اور یہ رسول اپنے مخاطبوں کو پاک کرے گا) اور آپ کے اہل بیت و آل مطہرہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم ان کی طرف برائی منسوب کرنے والوں کے الزامات سے اُن کو پاک ثابت کریں گے۔اور ان کی پاکیزگی کو ظاہر کر دیں گے۔اور وہ دو حدیثیں بخاری اور مسلم کی جوئیں نے بیان کی تھیں رجن میں سے ایک میں رسول کریم