تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 395
جواب:۔یہ تو قانون ساز اسمبلی کی اکثریت ہی فیصلہ کر سکتی ہے کہ رئیس مملکت مسلمان ہو یا غیر مسلم۔سوال:۔کیا آپ اپنی جماعت کے لوگوں سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کا معاشرہ دوسرے مسلمانوں سے مختلف ہونا چاہیئے ؟ جواب :۔جی نہیں۔سوال :۔کیا آپ نے اپنی جماعت کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ پاکستان میں سر کاری عہدوں پر قبضہ کر لیں ؟ جواب :۔جی نہیں۔سوال :۔کیا جنگی لحاظ سے بہ بوہ کے جائے وقوع کو کوئی خاص اہمیت حاصل ہے ؟ جواب: - جی ہاں۔حکومت پاکستان کے ہاتھوں میں یہ ایک جنگی اہمیت والا مقام ہو گا۔سوال: - کیا آپ نے جیسا کہ الفضل مورخہ 9 نومبر وار صفحہ ہ پہ چھپا ہے ربوہ میں ایک پریس کانفرنس میں یہ بیان دیا تھا کہ : - گو یہ زمین موجودہ حالت میں واقعی مہنگی ہے اور اس میں کوئی جاذبیت نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اسے ایک نہایت شاندار شہر کی صورت میں تبدیل کرنے کا تہیہ کر چکے جو دفاعی لحاظ سے بھی پاکستان میں محفوظ ترین مقام ہوگا " جواب :۔میں پانچ سال کے عرصہ کے بعد بتا نہیں سکتا کہ کانفرنس میں میرے اصل الفاظ کیا تھے۔عدالت کا سوال : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ربوہ کو جنگی لحاظ سے کوئی اہمیت حاصل ہے ؟ جواب :۔ربوہ کے درمیان سے موٹر سٹرک اور ریل دونوں گزارتی ہیں۔اس لیے اسے حکومت پاکستان کے خلاف جنگی اہمیت رکھنے والا مقام خیال نہیں کیا جاسکتا۔لیکن دوسرے لوگوں کے لحاظ سے اسے ہمارے لیے خاص اہمیت ضرور حاصل ہے۔کیونکہ چنیوٹ کی طرف سے جو دریا کے دوسری جانب واقع ہے اس پر حملہ نہیں ہو سکتا۔