تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 392
در ہاں آخری وقت آن پہنچا ہے ان تمام علماء حق کے خون کا بدلہ لینے کا جن کو شروع سے یہ خونی کلا قتل کر واتے آئے ہیں۔ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا را اعطاء اللہ شاہ بخاری سے (۲) ملا بدایونی سے (۳) ملا احتشام الحق سے (ہم) کلا محمد شفیع سے (ہ) کلا مودودی ( پانچویں سوار) سے " جواب :۔ہاں۔اس تحریر کے متعلق منٹگمری کے ایک آدمی کی طرف سے ایک شکایت میرے پاس پہنچی تھی اور میں نے اس کے متعلق متعلقہ ناظر سے جواب طلبی کی تھی اُس نے مجھے بتلایا تھا کہ اس نے ایڈیٹر کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ اس کی تردید کرے۔سوال: - کیا دہ تر دید آپ کے علم میں آئی ؟ جواب: - نہیں۔لیکن ابھی ابھی مجھے ، اگست 1122 کے الفضل کا ایک آرٹیکل جس کا عنوان ایک عملی کا ازالہ ہے دکھا یا گیا ہے جس میں مذکورہ بالا تحریر کی تشریح کر دی گئی تھی۔عدالت کا سوال :۔اس ادارتی مقالہ میں مین مولویوں کو ملا کہا گیا ہے کیا انہوں نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ احمدی مرندہ اور واجب القتل ہیں ؟ جواب :۔میں صرف یہ جانتا ہوں کہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے یہ رائے ظاہر کی تھی۔وکیل کے سوال :۔کیا آپ نے جون 1919 کے تشحمید الازبان کے صفحہ نمبر ۳ پر مندرجہ ذیل عبارت کسی مفتی ؟ خلیفہ ہو تو جو پہلا ہو اس کی بیعت ہو۔جو بعد میں دوسرا پہلے کے مقابل پر کھڑا ہو جائے جیسے لاہور میں ہے۔تو اسے قتل کر دو۔مگر یہ قتل کا حکم تب ہے کہ حبیب سلطنت اپنی ہو۔اب اس حکومت میں ہم ایسا نہیں کر سکتے یا۔جواب: جی نہیں ! ڈائری نویس نو آموز تھا۔میں نے جو کچھ کہا اسے اس نے غلط طور پر پیش کیا۔در حقیقت جو کچھ میں نے کہا تھا۔میں نے اس کی توضیح اس وقت کر دی تھی جب احمدیوں کی لاہوری پارٹی نے حکومت سے شکایت کی تھی اور حکومت نے مجھ سے اس کی وضاحت چاہی تھی۔سوال :۔کیا آپ کی جماعت خالص مذہبی جماعت ہے یا کہ سیاسی مفتی ؟