تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 391 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 391

جس میں کہا گیا ہے کہ :۔اب زمانہ بدل گیا ہے۔دیکھو پہلے جوسی آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا ینگ اب مسیح اس لیے آیا تا اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے یا ہے جواب: - حال مگر اقتباس والے اس فقرے کی تشریح کتاب کے صفحہ ۱۰۱و ۰۲ اپر کی گئی ہے۔جہاں میں نے کہا ہے کہ :۔دو لیکن کیا ہمیں اس کا کچھ جواب نہیں دینا چاہیئے اور اس خون کا بدلہ نہیں لینا چاہیئے۔لیکن اسی طریق سے جو حضرت مسیح موعود نے ہمیں بتا دیا ہے اور جو یہ ہے۔کہ کابل کی سرزمین سے اگر احمدیت کا ایک پودا کاٹا گیا ہے تو اب خدا تعالیٰ اس کی بجائے ہزاروں پودے وہاں لگائے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سید عبداللطیف صاحب شہید کے قتل کا بدلہ یہ نہیں رکھا گیا کہ ہم اُن کے قاتلوں کو قتل کریں اور ان کے خون بہائیں۔کیونکہ قتل کرنا ہمارا کام نہیں۔ہمیں خدا نے پر امن ذرائع سے کام کرنے کے لیے کھڑا کیا ہے نہ کہ اپنے دشمنوں کو قتل کرنے کے لیے۔یہیں ہمارا انتقام یہ ہے کہ اُن کے اور ان کی نسلوں کے دلوں میں احمدیت کا بیج بوئیں اور انہیں احمدی بنائیں۔اور جس چیز کو وہ مٹانا چاہتے ہیں۔اس کو ہم قائم کر دیں۔اگر اب ہمارا یہ کام ہے کہ ان کے خون کا بدلہ لیں۔اور اُن کے قاتل جس چیز کو مٹانا چاہتے ہیں اُسے قائم کر دیں۔اور چونکہ خدا کی برگزیدہ جماعتوں میں شامل ہونے والے اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں کہ اپنے دشمنوں پر احسان کرتے ہیں۔اس لیے ہمارا بھی یہ کام نہیں ہے کہ سید عبد اللطیف صاحب کے قتل کرنے والوں کو دنیا سے مٹا دیں اور قتل کر دیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں ہمیشہ کے لیے قائم کر دیں اور ابدی زندگی کے مالک بنا دیں اور اس کا طریق یہ ہے کہ انہیں احمد می بنائیں یہ عدالت کا سوال : - اس سیاق و سباق میں احمدیت سے کیا مراد ہے ؟ جواب : احمدیت سے مراد اسلام کی وہ تشریح ہے جو احمد یہ جماعت کے بانی نے کی۔وکیل کے سوال :۔کیا آپ نے الفضل کے دار جولائی ۱۹۵۳ء کے شمارہ میں ایک مقالہ افتتاحیہ جو " خونی ملا کے آخری دن " کے عنوان سے شائع ہوا دیکھا ہے جس میں مندرجہ ذیل الفاظ آتے ہیں یہ