تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 388
۳۸۷ جواب :۔ہاں۔یہ الفاظ اپنے عام معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔سوال: - ۱۹۴۲ء میں قیام پاکستان کے متعلق آپ کا طرز عمل کیا تھا با کیا یہ صحیح ہے کہ ارتون لہ کو آپ نے ملفوظات میں کہا تھا کہ :- پاکستان اور آنها د حکومت کا مطالبہ ہند دستان کی غلامی کو مضبوط کرنے والی زنجیریں ہیں۔جواب: ہاں۔لیکن میں نے یہ اس لیے کہا تھا کہ میرے اور مولانا مودودی سمیت کئی سر کردہ مسلمانوں کی یہ رائے تھی کہ قیام پاکستان کا مطالبہ ہندوستان کی آزادی کو مشکل بنا دے گا۔ان دونوں پاکستان کے قیام کو نا مکن سمجھا جاتا تھا۔کیونکہ انگریز ایسی مملکت کے قیام کے خلاف تھے۔سوال : کیا جیسا کہ الفضل مورخہ ۵ اگست ۱۹۴۷ء میں شائع ہوا تھا آپ نے یہ کہا تھا کہ :۔(العف) اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ ہند وسلم سوال اُٹھ جائے اور ساری تومیں شیر و شکر ہو کر ر ہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔بیشک یہ کام بہت مشکل ہے مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں یا اب ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں بدا ابدا ئیں گر یہ حالت عار منی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے۔(ج) بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ مہندوستان بنے اور ساری تو میں باہم شیر و شکر ہو کہ رہیں جواب : الفضل مورخنده را پریل سکول میں میری نظر نہ مسیح طور پر رپورٹ نہیں ہوئی۔صحیح رپورٹ ۱۲ اپریل سہ میں شائع ہوئی ہے۔سوال : - کیا آپ کی جماعت میں کوئی ملا بھی ہے ؟ جواب: - "ملا" کا لفظ "مولوی کا مترادف ہے۔اور یہ لفظ تحقیر کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ملا علی قاری۔ملا شور بازار اور ملا باقر جو تمام معروف شخصیتیں ہیں ملا کہلاتے ہیں اور اس میں فخر محسوس کرتے ہیں یا کرتے رہے ہیں۔سوال و۔کیا آپ نے سندھ سے واپسی پر کوئی پریس انٹرویو دیا تھا جو ہارا اپریل ۹۲ کے الفضل میں شائع ہوا۔اوریہ میں میں آپ سے ایک اخباری نمائندہ نے ایک سوال کیا اور آپ نے اس کا جواب دیا ؟